World
امریکا اور جنوبی کوریا کا سالانہ جنگی مشقیں قبل از وقت ختم کرنے کا فیصلہ
امریکا اور جنوبی کوریا نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید کے بعد اپنی سالانہ فوجی مشقیں مقررہ وقت سے ایک ہفتہ قبل ہی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مشقوں کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے پینٹاگون کو انہیں محدود کرنے کا حکم دیا تھا۔
امریکہ اور جنوبی کوریا نے اپنی سالانہ مشترکہ جنگی مشقیں طے شدہ وقت سے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی طرف سے یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان مشقوں کو 'غیر مناسب اور دشمنانہ' قرار دے کر محدود کرنے کی ہدایت کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز، مشقوں کے آغاز سے محض ایک دن قبل، سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے پینٹاگون کو سالانہ 'الچی فریڈم شیلڈ' مشقیں کم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ انہوں نے شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے اس اقدام کا دفاع کیا۔ دوسری جانب، شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ان مشقوں کو 'سب سے زیادہ فوری اور کھلا خطرہ' قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا، تاہم اس نے صدر ٹرمپ کے حکم کا کوئی ذکر نہیں کیا۔ اس بیان کے چند گھنٹوں بعد ہی سیول کی فوج نے اعلان کیا کہ مشقیں اب 27 اگست کے بجائے جمعہ کے روز ہی ختم کر دی جائیں گی۔ جنوبی کوریا کے جوائنٹس چیفس آف سٹاف کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ فیصلہ امریکی فریق کی تجویز پر کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ان کم کی گئی مشقوں سے دفاعی تیاریوں کو نقصان نہیں پہنچے گا اور تربیت کے اہداف حاصل کیے جاتے رہیں گے۔ یہ فوجی مشقیں ممکنہ شمالی کوریا کے حملے کے پیش نظر تیار کی گئی تھیں اور روایتی طور پر دو حصوں پر مشتمل تھیں۔ پہلے مرحلے کا مقصد ممکنہ خطرات کا دفاع کرنا تھا جو جمعہ تک جاری رہنا تھا جبکہ دوسرے مرحلے میں جوابی کارروائی شامل تھی جسے اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کے ایک فوجی عہدیدار نے بتایا کہ سیول اس فیصلے کو غیر معمولی قرار دے رہا ہے کیونکہ اس حوالے سے حکومت کو پہلے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ نہ تو ان کی حکومت اور نہ ہی دیگر حکام کو صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بارے میں پیشگی علم تھا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشقوں میں کمی سے واشنگٹن اور پیانگ یانگ کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے کیونکہ شمالی کوریا ہمیشہ سے ان مشترکہ مشقوں کو اپنے خلاف جارحیت کی تیاری قرار دیتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کے جنوبی کوریا میں تقریباً اٹھائیس ہزار پانچ سو فوجی تعینات ہیں جو کوریائی جنگ کے دوران کیے گئے معاہدے کا حصہ ہیں۔