LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں نیا اضافہ

News Image
حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ کے تناظر میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد نئی قیمتیں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔ پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق بدھ کے روز سے کیا گیا ہے۔
حکومت نے منگل کے روز ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا ہے جس کے تحت پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 3.34 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5.27 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں پٹرول کی نئی پرچون قیمت 334.54 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 395.69 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ نئی قیمتیں بدھ کے روز سے نافذ العمل ہیں۔ موجودہ صورتحال کے تناظر میں حکومت بدستور پٹرول پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کی وجہ سے حکومت کو بار بار قیمتوں میں ردوبدل کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پہلے ہی اس بات کا اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی مارکیٹ کے حالات کے پیش نظر اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ کابینہ اور وزیراعظم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو بین الاقوامی رجحانات کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ایندھن کے نرخ طے کرنے کا اختیار دیا جائے۔ پٹرول عام طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں ردوبدل براہ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی جیب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمتوں میں تبدیلی بھی بڑے پیمانے پر اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ یہ بھاری ٹرانسپورٹ کے شعبے، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں بنیادی طور پر استعمال ہوتا ہے۔ پاکستان میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل حکومت کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، جن کی ماہانہ فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن کے درمیان ہوتی ہے۔ حکومت کی جانب سے ایندھن کی اس بچت اور رسد کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات بھی جاری ہیں تاکہ ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔