World
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کا دورہ پاکستان اور دو طرفہ تعلقات
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی دو روزہ دورے پر آج اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، جو تقریبا دو دہائیوں میں کسی شامی وزیر کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی بدھ کے روز دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ یہ گزشتہ تقریباً دو دہائیوں میں کسی بھی شامی وزیر خارجہ کا پہلا دورہ پاکستان ہے، جس کا بنیادی مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی شعبوں میں تعاون کو نئی زندگی دینا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب شام کی عباسی اور عبوری قیادت 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عالمی اور علاقائی سطح پر روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ شامی وزیر خارجہ پاکستانی قیادت کی دعوت پر اس دورے پر آ رہے ہیں اور سفارتی حلقوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ یہ دورہ دو طرفہ تعلقات کی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ اپنے اس دورے کے دوران اسعد الشیبانی پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے اور دفاعی و تجارتی وزراء سے بھی تبادلہ خیال کا امکان ہے۔ اگرچہ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر تعاون کے لیے کوئی باضابطہ فریم ورک موجود نہیں ہے، تاہم اس دورے کے دوران دفاعی تعاون، معاشی اشتراک اور مفاہمت کے علاوہ مشرق وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی صورتحال پر بھی تفصیلی غور کیا جائے گا۔ یہ دورہ اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے قبل مئی 2007 میں اس وقت کے شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے پاکستان کا دورہ کیا تھا، اور دمشق میں حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ اس نوعیت کا پہلا اعلیٰ سطحی رابطہ ہے۔