LIVE
Loading Breaking News...

۱۹۶۶ ورلڈ کپ فائنل: کین فَرنگٹن کی یادگار فٹ بال روداد

News Image
کین فَرنگٹن نے 1966ء کے فیفا ورلڈ کپ کے اس تاریخی فائنل کی یادیں تازہ کی ہیں جو انہوں نے بطور نوجواں ومبلے اسٹیڈیم میں دیکھا تھا۔ ان کے نزدیک زندگی کا کوئی بھی دوسرا دن اس یادگار اور تاریخی دن کا مقابلہ نہیں کر سکا۔
برطانیہ کے معروف فٹ بال کے شوقین کین فَرنگٹن نے تقریباً ساٹھ سال گزرنے کے باوجود 1966ء کے فیفا ورلڈ کپ کے فائنل کی یادوں کو تازہ رکھا ہے۔ جس وقت انہوں نے ومبلے اسٹیڈیم میں انگلینڈ اور مغربی جرمنی کے درمیان کھیلا جانے والا یہ فائنل دیکھا تھا، ان کی عمر صرف سولہ سال تھی۔ ان کے مطابق، وہ لمحہ اور وہ دن ان کی زندگی کا سب سے بہترین اور سنہری ترین دن تھا جس کا مقابلہ اس کے بعد آنے والا کوئی بھی دن نہیں کر سکا۔ اس یادگار میچ میں انگلینڈ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تاریخی فتح حاصل کی تھی اور پہلی بار ورلڈ کپ کی ٹرافی اپنے نام کی تھی۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین کی طرح کین فَرنگٹن کے لیے بھی وہ ماحول ناقابل فراموش تھا۔ انگریزی ٹیم کی کامیابی اور گراؤنڈ میں موجود جوش و خروش نے نوجوان کین کے دل پر گہرے نقوش چھوڑے، جو آج بھی اتنے ہی تازہ ہیں جتنے کہ اس روز تھے۔ ساٹھ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود کین فَرنگٹن اس دن کے چھوٹے چھوٹے مناظر کو آج بھی بخوبی یاد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فٹ بال کی تاریخ کا وہ فائنل محض ایک کھیل نہیں تھا بلکہ ایک ایسا قومی جذبہ تھا جس نے پوری قوم کو یکجا کر دیا تھا۔ وقت بدلتا گیا، کھیل میں بہت سی تبدیلیاں آئیں اور کئی نئے عالمی کپ کھیلے گئے لیکن کین کے لیے 1966ء کے ومبلے اسٹیڈیم کا وہ دن ہمیشہ کے لیے سب سے منفرد اور خاص رہے گا۔