World
ایران کی خطے کے ممالک کو امریکی فوج کی مدد پر سخت تنبیہ
ایران نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرنے کا مطلب جنگی کارروائی میں براہ راست شرکت ہوگا۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکی جارحیت کی صورت میں خطے کے تمام سہولت کاروں کو بھی نتائج بھگتنا ہوں گے۔
تہران: ایران نے خطے کے تمام ممالک بالخصوص خلیجی ریاستوں کو واضح اور سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں امریکی فوج یا اس کی عسکری کارروائیوں کی مدد کرنے سے گریز کریں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی پڑوسی یا علاقائی ملک نے امریکی فوج کو اپنی سرزمین، فضائی حدود یا کسی بھی قسم کی تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دی تو اسے تہران کے خلاف ہونے والی جارحیت میں براہ راست شرکت اور شراکت داری تصور کیا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کی لہر عروج پر ہے اور آبنائے ہرمز کے قریب سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایرانی عسکری قیادت کا ماننا ہے کہ امریکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے اپنے اتحادیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی جانب سے جاری کردہ یہ حالیہ انتباہی بیانات خلیجی ممالک کی سلامتی اور سفارتی توازن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ تہران نے دوٹوک انداز میں واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی متوقع عسکری کشمکش یا نیوکلیئر حملے کی صورت میں ایران کا ردعمل انتہائی سخت ہوگا اور اس کا نشانہ نہ صرف براہ راست امریکی مفادات بنیں گے بلکہ ان تمام علاقائی حکومتوں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا جو اس جنگ میں واشنگٹن کی معاونت کریں گی۔ دوسری جانب، خطے کے دیگر ممالک اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتہائی محتاط سفارتی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہیں تاکہ وہ بڑی طاقتوں کے اس محاذ آرائی کے دائرہ کار سے خود کو محفوظ رکھ سکیں۔ عالمی منڈی اور توانائی کے ذخائر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کے قریب اس طرح کی سنگین دھمکیوں کے بعد بین الاقوامی برادری میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اقوامِ عالم کے رہنما خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔