LIVE
Loading Breaking News...

یو اے ای کی جانب سے ایران سے تجارت معطل، معاشی بحران کا خدشہ

News Image
متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور مالیاتی سرگرمیاں اگلے نوٹس تک معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مبینہ طور پر تہران کی جانب سے بیلسٹک میزائل داغے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جبکہ ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے ساتھ اپنی تمام تجارتی اور مالیاتی سرگرمیاں اگلے نوٹس تک کے لیے معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ انتہائی قدم ایک مبینہ میزائل حملے کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس میں متحدہ عرب امارات پر بیلسٹک میزائل فائر کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس فیصلے سے ایران کا اہم ترین معاشی فرار کا راستہ بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جو پہلے ہی بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے ساتھ تجارت کی بندش ایرانی معیشت کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ثابت ہوگی کیونکہ اماراتی بندرگاہیں اور تجارتی مراکز طویل عرصے سے ایران کے لیے بیرونی دنیا سے اشیاء اور فنڈز کی ترسیل کا بڑا ذریعہ رہے ہیں۔ دوسری جانب، تہران کی حکومت نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں یہ کہا گیا ہے کہ ایران نے متحدہ عرب امارات پر کوئی میزائل حملہ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ الزامات خطے میں کشیدگی بڑھانے اور ایران کو اقتصادی طور پر مزید تنہا کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہیں۔ اس سفارتی اور معاشی تناؤ کے باعث خلیجی خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگر یہ پابندیاں اور معطلی طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو اس کے ایران کی کرنسی، افراط زر اور عام شہریوں کی زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔