LIVE
Loading Breaking News...

برگر کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور کسانوں کے مسائل

News Image
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران گوشت، برگر کے بن اور سلاد کی قیمتوں میں تیز رفتار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس تمام مہنگائی کے باوجود کسانوں کا کہنا ہے کہ اس منافع بخش اضافے سے انہیں کوئی مالی فائدہ نہیں مل رہا۔
رواں موسم گرما کے دوران فاسٹ فوڈ کے شوقین افراد کو اپنے پسندیدہ برگر کے لیے زیادہ قیمت چکانا پڑ رہی ہے، تاہم اس مہنگائی کا اصل فائدہ کھیتوں میں کام کرنے والے کسانوں کو ہرگز نہیں مل رہا۔ حالیہ اقتصادی اعداد و شمار سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران گائے کے گوشت، برگر کے لیے استعمال ہونے والے بن اور پیک شدہ سلاد کی قیمتوں میں انتہائی تیز رفتار اضافہ ہوا ہے۔ مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی بلند قیمتیں عام صارفین کی جیبوں پر بھاری پڑ رہی ہیں اور مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، زرعی اور لائیو سٹاک کے شعبے سے وابستہ کسانوں اور پروڈیوسرز کا کہنا ہے کہ وہ اشیا کی اس بڑھتی ہوئی لاگت سے کوئی مالی منافع نہیں کما پا رہے ہیں۔ کسانوں کے مطابق، کھاد، جانوروں کی خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے ان کی اپنی لاگت بھی پیداوار کے ساتھ ساتھ بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال میں ریٹیل مارکیٹ اور فارم گیٹ کی قیمتوں کے درمیان ایک بڑا خلیج پیدا ہو چکا ہے، جہاں صارفین مہنگے داموں اشیا خریدنے پر مجبور ہیں لیکن بنیادی پروڈیوسر کو اس کا معاوضہ نہیں مل رہا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کے مختلفمراحل، مڈل مین کا کردار اور کارپوریٹ پرافٹ مارجنز اس اضافے کی اصل وجوہات ہیں۔ جب تک سپلائی چین کے نظام میں شفافیت نہیں لائی جاتی اور کسانوں کو ان کی محنت کا براہ راست منصفانہ معاوضہ نہیں ملتا، اس طرح کے توازن کے بگاڑ برقرار رہیں گے۔ صارفین اور کسان دونوں ہی موجودہ مہنگائی کی لہر سے یکساں طور پر متاثر ہو رہے ہیں جبکہ منافع کا بڑا حصہ مڈل مین اور بڑی کمپنیوں کی تجوریوں میں جا رہا ہے۔