LIVE
Loading Breaking News...

فلسطینی انتخابات: حماس اور دیگر دھڑوں کا اتحاد پر غور

News Image
حماس اور فتح کے باغی دھڑے نے نومبر میں ہونے والے انتخابات کے لیے ایک مشترکہ انتخابی لسٹ پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس سیاسی پیشرفت کا مقصد صدر محمود عباس کو انتخابی میدان میں بڑا چیلنج دینا ہے۔
فلسطینی سیاسی منظر نامے میں ایک اہم اور بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں جہاں مختلف فلسطینی دھڑوں نے آئندہ نومبر میں متوقع انتخابات کے لیے ایک وسیع اتحاد بنانے پر سنجیدہ غور شروع کر دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق حماس اور تحریک فتح کے ایک الگ ہونے والے دھڑے نے آپس میں رابطہ کر کے ایک مشترکہ انتخابی لسٹ تیار کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ اتحاد عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ فلسطینی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو گا اور اس سے موجودہ قیادت کے لیے انتخابی میدان میں سخت مقابلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس مجوزہ اتحاد کا بنیادی مقصد فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کی جماعت کو ایک طاقتور اور منظم سیاسی متبادل فراہم کرنا ہے تاکہ طویل عرصے سے منقسم فلسطینی سیاسی قوتیں ایک پلیٹ فارم پر آ سکیں۔ اس پیشرفت سے خطے کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔ فریقین کے مابین ابتدائی بات چیت میں انتخابی حکمت عملی اور نشستوں کی تقسیم کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس اتحاد کے حوالے سے مزید اہم اعلانات متوقع ہیں جو فلسطینی عوام اور سیاسی مستقبل کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔