LIVE
Loading Breaking News...

آئی سی سی کی امریکی پابندیوں کی شدید مذمت، عدالتی آزادی پر حملہ قرار

News Image
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی سی سی نے اس اقدام کو عدالت کی خود مختاری اور آزادی پر ایک صریح حملہ قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے عدالت کے خلاف چلائی جانے والی مہم اور نئی پابندیوں پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی سی سی کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف عدالتی امور میں مداخلت کے مترادف ہیں بلکہ یہ عالمی قانون اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو کمزور کرنے کی ایک کھلی کوشش بھی ہیں۔ عدالت نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ اس طرح کے دباؤ کے ہتھکنڈے دنیا بھر میں مظلوموں کو انصاف دلانے کے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ یہ حالیہ کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کے کچھ اقدامات کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے پابندیوں کا اعلان کیا۔ بین الاقوامی سطح پر اس تنازع نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے جہاں قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیمیں آئی سی سی کی حمایت میں سامنے آ رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی عالمی ادارے کی آزادی کو سلب کرنا بین الاقوامی نظامِ انصاف کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری اور مختلف ممالک کے رہنماؤں نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ آئی سی سی نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ تمام تر دباؤ کے باوجود اپنی آئینی ذمہ داریاں غیر جانبدارانہ طریقے سے نبھاتی رہے گی تاکہ بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔