LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کی غزہ میں ہند رجب اور امدادی کارکنوں کی ہلاکت پر تحقیقات

News Image
اسرائیلی فوج نے جنوری 2024 میں غزہ میں چھ سالہ ہند رجب اور مارچ 2025 میں پندرہ ہنگامی اور امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں کے معاملے میں فوجداری تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلے فوج کے فیکٹ فائنڈنگ اینڈ اسیسمنٹ میکانزم کی تحقیقات کے بعد کیے گئے ہیں، جن میں کئی دیگر واقعات کا جائزہ بھی شامل ہے۔
اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں اپنے فوجیوں کے ہاتھوں جنوری 2024 میں چھ سالہ ہند رجب اور مارچ 2025 میں 15 ہنگامی اور امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں کے معاملے میں اندرونی فوجداری تحقیقات کا آغاز کرے گی۔ فوج کے مطابق یہ تحقیقاتی فیصلے اس کے اپنے فیکٹ فائنڈنگ اینڈ اسیسمنٹ میکانزم کی رپورٹس کے بعد کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں فلسطینیوں کی اموات سے جڑے پانچ مختلف واقعات کے فیصلوں کو عام کیا گیا ہے، جن میں اپریل 2024 میں عالمی فلاحی ادارے ورلڈ سینٹرل کچن کے سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت کا معاملہ بھی شامل تھا، تاہم اس خاص واقعے کے بارے میں فوج نے دعویٰ کیا کہ اس میں کسی فوجداری جرم کا کوئی معقول شبہ نہیں پایا گیا جو فوجداری تحقیقات کا جواز فراہم کرتا۔ جنوری 2024 کے دلخراش واقعے میں چھ سالہ ہند رجب نے جنگ زدہ غزہ شہر میں اس وقت بچائے جانے کی التجا کی تھی جب اس کی فیملی کی کار پر فائرنگ کی گئی تھی، جس کے بعد وہ اکیلی، خوفزدہ اور زخمی حالت میں اپنے مردہ رشتہ داروں کی لاشوں کے درمیان محصور رہ گئی تھی۔ فلسطین ہلالِ احمر سوسائٹی کے ساتھ ایک انتہائی پریشان کن اور مایوس کن فون کال میں اس نے کہا تھا کہ وہ بہت ڈری ہوئی ہے اور کسی کو اسے بچانے کے لیے بھیجا جائے۔ دو ہفتوں سے زائد عرصے کی شدید کوششوں کے بعد ہند کی لاش، اس کے رشتہ داروں اور ان کی مدد کے لیے بھیجے گئے ہلالِ احمر کے دو کارکنوں کی لاشوں کے ساتھ برآمد ہوئی تھی۔ لندن میں قائم تحقیقی ادارے فارنزک آرکیٹیکچر کی ایک آزادانہ تحقیقاتی رپورٹ میں سیٹلائٹ کی تصاویر اور بصری شواہد کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ کئی اسرائیلی ٹینک اس گاڑی کے قریب موجود تھے اور ان میں سے ایک ٹینک نے ہند اور اس کے اہل خانہ کی گاڑی پر 335 گولیاں فائر کی تھیں۔ رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا تھا کہ غالباً اسی ٹینک نے ریسکیو ایمبولینس پر بھی حملہ کیا تھا۔ ہند رجب کی یہ المناک کہانی اور اس کی ہنگامی کال کی آڈیو ریکارڈنگ بعد میں تیونس کی فلم ساز کوثر بن ہانیہ کی دستاویزی فلم دی وائس آف ہند رجب کی بنیاد بنی، جسے اس سال اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے لیے نامزد بھی کیا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور ملکی قوانین کے تحت اپنے فرائض کی پاسداری کرتے ہوئے جنگی حالات میں پیش آنے والے غیر معمولی واقعات کا جائزہ لیتی ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال مارچ کے مہینے میں امریکی قانون سازوں نے بھی ایک قانون سازی متعارف کروائی تھی جس میں ہند رجب کی ہلاکت کی باضابطہ امریکی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا، کیونکہ اس واقعے نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور عام شہریوں کو شدیدمتاثر کیا تھا۔