Politics
بلاول بھٹو کا اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپسی کا مشورہ
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھutto زرداری نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو مضبوط بنانے کی خاطر قائمہ کمیٹیوں میں اپنی نشستیں سنبھالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری اداروں کے استحکام اور قانون سازی کے عمل کو بہتر کرنے کے لیے ایوان کے اندر مکالمہ ناگزیر ہے۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ کے اندر جمہوری عمل کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو اہم مشورہ دیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اپوزیشن کو پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں میں فوری طور پر واپس آنا چاہیے تاکہ ملکی قانون سازی اور عوامی فلاح کے امور میں بھرپور کردار ادا کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ ہی وہ واحد فورم ہے جہاں تمام سیاسی جماعتیں بیٹھ کر عوامی مسائل پر سنجیدہ بحث کر سکتی ہیں اور ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کر سکتی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جمہوریت کی خوبصورتی اور بقا اسی میں پوشیدہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایوان کے اندر اور اس کی کمیٹیوں میں باضابطہ طور پر فعال رہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ قائمہ کمیٹیوں کو پارلیمنٹ کا بنیادی انجن مانا جاتا ہے، جہاں کسی بھی قانون یا بل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ اگر اپوزیشن ان کمیٹیوں سے باہر رہے گی تو اس سے نہ صرف جمہوری عمل کمزور ہوگا بلکہ اہم قانون سازی کے عمل میں عوامی نمائندوں کی آواز بھی مکمل طور پر عکاس نہیں ہو پائے گی، جو کہ کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے خطاب میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی جماعت ہمیشہ سے پارلیمانی بالادستی اور جمہوری اداروں کے استحکام کی حامی رہی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی اور وقتی سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر ملک اور جمہوریت کی بہتری کے لیے پارلیمانی روایات کو مضبوط کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن جماعتیں اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کریں گی اور جلد ہی پارلیمانی کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت کا آغاز کریں گی تاکہ ملک میں جمہوری عمل کو مزید پٹڑی پر لایا جا سکے۔