Technology
سیمنٹ کا نیا ٹھنڈا پینٹ - عمارتوں کے درجہ حرارت میں کمی
سائنسدانوں نے سیمنٹ پر مبنی ایک ایسا انوکھا پینٹ تیار کیا ہے جو نمی جذب کر کے عمارتوں کو روایتی سفید رنگ کی نسبت نمایاں طور پر ٹھنڈا رکھتا ہے۔ تجربات کے دوران اس پینٹ سے لیس ماڈل ہاؤس کا درجہ حرارت عام پینٹ کے مقابلے میں ساڑھے چار ڈگری سینٹی گریڈ کم ریکارڈ کیا گیا۔
سائنسدانوں اور محققین نے عمارتوں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ایک انتہائی جدید اور انقلابی پینٹ تیار کر لیا ہے جو سیمنٹ پر مبنی ہے اور روایتی رنگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر نتائج فراہم کرتا ہے۔ اس نئے فارمولے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف سورج کی روشنی کو منعکس کرتا ہے بلکہ اپنے اندر نمی جذب کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے جس کی بدولت یہ پانی کے اخراج کے ذریعے عمارت کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھتا ہے۔
تجرباتی مراحل کے دوران محققین نے اس پینٹ کے حیرت انگیز نتائج درج کیے ہیں۔ ایک ماڈل ہاؤس پر کیے گئے تجربے سے یہ بات سامنے آئی کہ روایتی سفید پینٹ کے مقابلے میں اس نئے سیمنٹ بیسڈ پینٹ نے گھر کے اندرونی درجہ حرارت کو ساڑھے چار ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ کم رکھا۔ یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر ان علاقوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتی ہے جہاں گرمیوں کے موسم میں شدید گرمی اور حبس کی لہر ہوتی ہے اور ائیر کنڈیشنر کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پینٹ پسینے کے عمل کی طرح کام کرتا ہے جس طرح انسانی جسم پسینہ خارج کر کے خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے اسی طرح یہ پینٹ بھی نمی کو جذب کر کے اسے بخارات میں تبدیل کرتا ہے۔ اس عمل سے عمارت کے اندرونی حصوں میں گرمی کا اثر کم ہو جاتا ہے اور بجلی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پینٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء ماحول دوست ہیں اور طویل عرصے تک پائیدار رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر مارکیٹ میں لانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ عام لوگ اور تعمیراتی ادارے اس سے استفادہ حاصل کر سکیں۔ اس سے نہ صرف رہائشی عمارتیں زیادہ آرام دہ بن سکیں گی بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی کھپت میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تناظر میں ایک اہم پیش رفت ہے۔