World
جموں و کشمیر مخصوص نشستیں انتخابات چوبیس اگست مسلم لیگ ن حکومت
آزاد جموں و کشمیر میں آٹھ مخصوص نشستوں کے لیے انتخابات چوبیس اگست کو منعقد ہوں گے۔ مسلم لیگ ن نے چھبیس اراکین کی حمایت کے ساتھ دو تہائی اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابی میدان میں ایک بار پھر سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں جہاں آٹھ مخصوص نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل چوبیس اگست کو منعقد کیا جائے گا۔ ان نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے بعد خطے میں سیاسی جوڑ توڑ اور نئی حکومت کی تشکیل کا عمل اپنے حتمی مرحلے میں داخل ہو جائے گا۔ انتخابی کمیشن کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں تاکہ شفاف اور پرامن طریقے سے انتخابی عمل کو یقینی بنایا جا سکے اور نامزد امیدواروں کے درمیان مقابلہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہو۔
دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن نے آزاد جموں و کشمیر میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ کے مطابق مسلم لیگ ن اڑتیس میں سے چھبیس ارکانِ اسمبلی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے، جو کہ حکومت سازی کے لیے انتہائی اہم اور واضح اکثریت ہے۔ پارٹی نے سات مخصوص نشستوں کے لیے اپنے ٹکٹوں کا بھی باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس سے سیاسی گلیوں میں ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے اور سیاسی مبصرین اس پیش رفت کو مسلم لیگ ن کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔
اس سیاسی منظر نامے میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایک آزاد قانون ساز ساجد اقبال نے انتخابات میں اپ سیٹ کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔ اس شمولیت سے جماعت کی پوزیشن اسمبلی میں مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ دریں اثنا، پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ چار دہائیوں کی گورننس کا موازنہ کر کے دیکھ لیں۔ اس سیاسی بیان بازی کے باوجود، تمام جماعتیں چوبیس اگست کو ہونے والے مخصوص نشستوں کے انتخابات پر پوری طرح توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں تاکہ ایوان میں اپنی حتمی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔