Business
ٹریژری ییلڈز میں کمی اور امریکی اسٹاک مارکیٹ کا احوال
امریکہ میں طویل مدتی ٹریژری ییلڈز کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح سے نیچے آ گئی ہیں، جس سے حصص بازار میں گزشتہ تین روز سے جاری گراوٹ تھمنے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں۔ سرمایہ کار اب آئندہ مالیاتی پالیسی کے تناظر میں وفاقی اوپن مارکیٹ کمیٹی (FOMC) کے منٹس کے منتظر ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں حالیہ چند روز کے دوران اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں جہاں امریکی ٹریژری ییلڈز کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح سے پیچھے ہٹ گئی ہیں۔ اس کمی کو سرمایہ کاروں کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ بانڈ مارکیٹ پر پڑنے والے دباؤ میں اب کچھ کمی واقع ہوئی ہے۔ اس معاشی پیش رفت کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی گزشتہ تین روز سے جاری مسلسل گراوٹ کے تھمنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بانڈز کی پیداوار میں کمی حصص بازار کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور مارکیٹ کا رجحان اب بہتری کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔
اس تمام صورتحال کے درمیان مارکیٹ کی تمام تر توجہ وفاقی اوپن مارکیٹ کمیٹی یعنی ایف او ایم سی (FOMC) کے آنے والے منٹس پر مرکوز ہے۔ سرمایہ کار اور معاشی ماہرین اس دستاویز کا باریک بینی سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ امریکی مرکزی بینک کے آئندہ سود کی شرح کے فیصلوں اور مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے بارے میں کوئی واضح اشارہ مل سکے۔ شرح سود کے حوالے سے غیر یقینی کی صورتحال نے پچھلے ਕੁਝ ہفتوں سے عالمی منڈیوں کو متاثر کر رکھا ہے، اور ایف او ایم سی کے یہ منٹس اس حوالے سے سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب بین الاقوامی منڈیوں سے دیگر معاشی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں جن میں برطانوی معیشت کے حوالے سے جے پی مورگن کی جانب سے جاری کردہ انتباہ بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ میں مہنگائی کی شرح میں دوبارہ اضافہ دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے ایک انتباہی سگنل ہے کہ خطرات ابھی ٹلے نہیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتوں میں بھی ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے جو عالمی سطح پر توانائی کی طلب اور رسد کے توازن کو متاثر کر رہا ہے۔ ان تمام عوامل کے باوجود، فی الحال امریکی بانڈ ییلڈز میں کمی اور حصص مارکیٹ کے سنبھلنے کے آثار نے سرمایہ کاروں کو کچھ سکون کا سانس لینے کا موقع فراہم کیا ہے۔