World
قابتیہ میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے فلسطینی قیدیوں پر نمبر لگانے کا واقعہ
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے قابتیہ میں بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی گرفتاریوں کے دوران اسرائیلی فورسز کی طرف سے ان کےجسموں پر نمبر لگائے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس غیر انسانی عمل پر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی قصبے قابتیہ میں قابض اسرائیلی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی گرفتاریوں کے دوران ایک انتہائی تشویشناک اور غیر انسانی واقعے کا انکشاف ہوا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فوجیوں نے بڑے پیمانے پر فلسطینی شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد ان کے جسموں پر شناخت کے لیے نمبرز لگائے، جو بین الاقوامی قوانین اور جنگی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ ظالمانہ ہتھکنڈے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح حراست میں لیے جانے والے افراد کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ظالمانہ اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔ قابتیہ میں جاری اس تازہ فوجی آپریشن کے دوران متعدد فلسطینی نوجوانوں اور بزرگوں کو گھروں سے زبردستی اٹھایا گیا اور انہیں نامعلوم مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ گرفتاری کے اس عمل کے دوران نہ صرف گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی بلکہ مکینوں کو شدید ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ قیدیوں پر نمبرز لگانے کی یہ روش دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہے اور اس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے مقبوضہ علاقوں میں قیدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک اور ظالمانہ حراستی پالیسیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو اس طرح نشان زد کرنا جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب، عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں اور اسرائیلی حکام پر دباؤ ڈالیں کہ وہ فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بین الاقوامی ضابطوں کے مطابق سلوک کریں۔ اس طرح کے واقعات مقبوضہ مغربی کنارے میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں، جہاں عام شہریوں کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔