LIVE
Loading Breaking News...

پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کا پارلیمنٹ میں تعاون کا فیصلہ

News Image
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں پارلیمانی امور اور انتخابی اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقین نے پارلیمنٹ کو فعال بنانے اور قانون سازی کے معاملات میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک اہم سیاسی پیشرفت کے دوران حکمران اتحاد کی اہم جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور اپوزیشن جماعت تحریک انصاف نے پارلیمنٹ میں قانون سازی کے امور پر باہمی رابطے جاری رکھنے اور تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اہم اتفاق رائے اس وقت طے پایا جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں طرف سے اہم سیاسی شخصیات موجود تھیں جن میں سلمان اکرم رادہ، اسد قیصر، راجہ پرویز اشرف اور شیری رحمان بھی شامل تھیں۔ ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور پارلیمانی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اس ملاقات کو ایک 'اچھا آغاز' قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت چاہتی ہے کہ ایوان مکمل طور پر فعال ہو اور تمام پارلیمنٹیرینز عوام کے مینڈیٹ کے مطابق اپنا کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو نے اپوزیشن رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں شمولیت اختیار کریں اور انتخابی عمل میں شفافیت لانے کے لیے انتخابی اصلاحات کے سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر الیکشن کے بعد جیتنے والی جماعت جشن مناتی ہے جبکہ ہارنے والی جماعت شکایت کرتی ہے، اور اس روایت کو بدلنے کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطوں کے بعد موقف اختیار کیا کہ وہ اس معاملے پر پی ٹی آئی کے بانی اور دیگر مرکزی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا بنیادی مقصد پارلیمنٹ اور اس کی کمیٹیوں کو مضبوط بنانا ہے۔ بلاول بھٹو نے بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی سراہا اور اسے ایک مثبت جمہوری روایت قرار دیا۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی زائل کیا کہ اس ملاقات کے پیچھے کوئی بڑی سیاسی سازش ہے، بلکہ اس کا مقصد صرف اور صرف پارلیمنٹ کو فعال بنانا اور حائل خلیج کو کم کرنا ہے۔