Politics
بلاول بھutto کا مؤقف: نئے صوبوں کے قیام کے لیے عوامی اتفاق رائے لازمی ہے
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھutto زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اس کے لیے وسیع عوامی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے اہم آئینی اور انتظامی فیصلوں کو عوام کی مرضی اور مشاورت کے بغیر نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھutto زرداری نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ کسی بھی سیاسی جماعت کی یکطرفہ خواہش پر نہیں بلکہ اس کے لیے وسیع عوامی اتفاق رائے کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی بہتری اور عوامی سہولت کے لیے صوبوں کی تشکیل کا عمل آئینی اور جمہوری دائرہ کار کے اندر رہ کر ہی انجام دیا جانا چاہیے۔ بلاول بھutto نے مزید وضاحت کی کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سے جمہوری اقدار اور عوام کی طاقت پر یقین رکھتی ہے، لہٰذا کسی بھی بڑے انتظامی یا آئینی قدم سے پہلے متعلقہ خطوں کے عوام کی امنگوں اور ان کی مرضی کا احترام کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ اس قسم کے معاملات پر محض سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے کی بجائے قومی سطح پر سنجیدہ اور جامع بات چیت ہونی چاہیے تاکہ ملک میں کسی بھی قسم کے لسانی یا علاقائی تناؤ سے بچا جا سکے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بلاول بھutto کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پیپلز پارٹی اس حساس معاملے پر انتہائی محتاط اور آئینی طریقہ کار اپنانے کی حامی ہے، جہاں عوام کی رائے کو سب سے مقدم رکھا جاتا ہے۔ ملک بھر میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے وقتاً فوقتاً بحث چھڑتی رہتی ہے، اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے منشور کے مطابق اس پر مؤقف رکھتی ہیں، تاہم بلاول بھutto کا یہ تازہ مؤقف اس مباحثے میں ایک نئی سمت فراہم کرتا ہے جس میں عوامی تائید اور اتفاقِ رائے کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔