LIVE
Loading Breaking News...

اوپن اے آئی ہیکنگ: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اے آئی کنٹرولز پر غور

News Image
سابق امریکی صدر اور موجودہ انتظامیہ کے دوران مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سکیورٹی خدشات بڑھنے لگے ہیں۔ حالیہ اوپن اے آئی ہیکنگ کے واقعات کے بعد حکام اس ٹیکنالوجی پر ممکنہ ضابطہ کار اور کنٹرولز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
امریکی سیاسی حلقوں میں مصنوعی ذہانت کی سکیورٹی کے حوالے سے ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب حالیہ دنوں میں اوپن اے آئی کے سسٹمز کو ہیکنگ کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان سائبر سکیورٹی کے مسائل کے بعد اب واشنگٹن میں یہ سوچ پروان چڑھ رہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اور نفاذ کے لیے کچھ بنیادی اور لازمی ضابطے طے کیے جائیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل انتظامیہ کا رویہ اس ٹیکنالوجی کے معاملے میں کافی نرم اور آزادانہ رہا تھا، اور حکام نے اس شعبے میں کم سے کم حکومتی مداخلت کی پالیسی اپنا رکھی تھی۔ تاہم، حالیہ خطرات اور حساس ڈیٹا کی ممکنہ چوری کے بعد پالیسی سازوں کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ان کی سکیورٹی میں خامیاں عالمی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔ اوپن اے آئی جیسے معروف اداروں پر سائبر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب انتظامیہ کے اندر یہ بحث شروع ہو چکی ہے کہ آیا اے آئی کی کمپنیوں پر کڑی نگرانی اور حفاظتی معیارات لاگو کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ریگولیشنز کا دائرہ کار مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ٹیکنالوجی کی صنعت ہمیشہ سے سخت ضابطوں کے خلاف رہی ہے، لیکن موجودہ سکیورٹی چیلنجز نے حکومت کو اس پر سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں اس حوالے سے مزید پالیسی بیانات سامنے آنے کی توقع ہے جو اس بات کا تعین کریں گے کہ امریکہ میں مصنوعی ذہانت کا مستقبل کیا رخ اختیار کرتا ہے۔