LIVE
Loading Breaking News...

توانائی کا بحران اور پانی کی قلت: ایک خطرناک مستقبل کی دستک

News Image
توانائی کی پیداوار اور پانی کے وسائل کے درمیان گہرا تعلق دنیا بھر میں ایک نئے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ پانی کے ذخائر پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔
دنیا بھر میں توانائی کی پیداوار اور پانی کے ذخائر کے درمیان ایک گہرا اور نازک تعلق پایا جاتا ہے، جس پر اب ماہرینِ معاشیات اور سائنسدانوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق، بجلی کی تیاری کا عمل تقریباً ہمیشہ ہی پانی پر براہِ راست یا بالواسطہ انحصار کرتا ہے۔ چاہے وہ پن بجلی (ہائیڈرو پاور) کے منصوبے ہوں یا تھرمل اور نیوکلیئر پاور پلانٹس جہاں ٹربائنز چلانے کے لیے بھاپ بنانے کی غرض سے بڑی مقدار میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے، دونوں صورتوں میں پانی بنیادی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی ترقی کی وجہ سے بجلی کی طلب میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں پانی کے قدرتی ذخائر تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر توانائی کی پیداوار کے موجودہ طریقوں میں فوری طور پر تبدیلیاں نہ لائی گئیں، تو آنے والے برسوں میں دنیا کو ایک ایسے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو بیک وقت توانائی اور پانی دونوں کی شدید قلت پر مشتمل ہوگا۔ بہت سے خطوں میں پہلے ہی زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے، جس سے نہ صرف زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے بلکہ بڑے پاور پلانٹس کی عملداری بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ جب خشک سالی یا قلتِ آب کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے، تو بجلی گھروں کو اپنی پیداوار کم یا معطل کرنی پڑتی ہے، جس سے پورے کے پورے شہر اندھیرے میں ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے اب بین الاقوامی سطح پر یہ آواز اٹھائی جا رہی ہے کہ توانائی اور آبی وسائل کی منصوبہ بندی کو ایک ساتھ جوڑا جائے۔ حکومتوں اور پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ متبادل توانائی کے ذرائع، جیسے کہ شمسی اور ہوا کی توانائی پر زیادہ سے زیادہ انحصار کریں، جن میں پانی کے استعمال کی کم از کم ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، صنعتی اور بجلی گھروں کے نظام میں پانی کی ری سائیکلنگ اور جدید کولنگ ٹیکنالوجیز کا فروغ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر بروقت موثر اقدامات نہ کیے گئے، تو پانی اور توانائی کا یہ دوہرا بحران عالمی معیشت اور انسانی زندگی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔