Business
عالمی بانڈ سیل آف اور اسٹاک مارکیٹ میں مندی کی تازہ صورتحال
عالمی بانڈ مارکیٹ میں جاری فروخت کے شدید دباؤ اور ٹریژری ییلڈز میں اضافے کے باعث عالمی اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ نیسڈیک انڈیکس کو سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں منگل کے روز کاروبار کا آغاز شدید مندی کے ساتھ ہوا، جہاں بانڈ مارکیٹ میں فروخت کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور ٹریژری ییلڈز میں اضافے نے سرمایہ کاروں کو پریشان کر رکھا ہے۔ اس معاشی صورتحال کے براہ راست اثرات دنیا بھر کے اسٹاک ایکسچینجز پر مرتب ہو رہے ہیں اور بیشتر اہم اشاریے سرخ نشان کے ساتھ بند ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار سرمایہ کاروں کو اسٹاکس کے مقابلے میں فکسڈ انکم سیکیورٹیز کی طرف راغب کر رہی ہے، جس کی وجہ سے حصص کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اضافے نے بھی عالمی معیشت کے حوالے سے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ انرجی مارکیٹ میں اتار چڑھاو اور مہنگائی کے خدشات نے کاروباری حلقوں میں بے یقینی کی فضا پیدا کر رکھی ہے، جو براہ راست کارپوریٹ پرافٹ اور مارکیٹ کے مجموعی اعتماد کو متاثر کر رہی ہے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے بڑے حصص اس مندی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ نیسڈیک کمپوزٹ انڈیکس میں ایک فیصد تک کی نمایاں گراوٹ ریکارڈ کی گئی، جو کسی بھی دوسرے بڑے انڈیکس کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ ٹیکنالوجی کے علاوہ دیگر اہم صنعتی اور مالیاتی شعبے بھی دباؤ کی زد میں ہیں، کیونکہ بلند شرح سود اور مہنگائی کا طویل مدتی اثر اب کارپوریٹ سیکٹر کی کارکردگی پر نمایاں ہونے لگا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں مرکزی بینکوں کے ممکنہ اقدامات اور اقتصادی اعشاریے عالمی منڈیوں کا رخ متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ سرمایہ کار اس وقت انتہائی محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور ہر نئی معاشی رپورٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ مارکیٹ کے اگلے قدم کا اندازہ لگایا جا سکے۔