LIVE
Loading Breaking News...

امریکی حصص بازار میں گراوٹ، ایران کشیدگی اور تیل کی قیمتوں کا اثر

News Image
امریکہ کے بڑے اسٹاک انڈیکس منگل کے روز دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئے جبکہ ٹیکنالوجی کے بڑے حصص میں گراوٹ دیکھی گئی۔ ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھنے اور تیل کی قیمتوں میں تیزی کے باعث سرمایہ کاروں میں اضطراب پایا گیا۔
منگل کے روز ایک ہنگامہ خیز تجارتی سیشن کے دوران امریکہ کے بڑے اسٹاک انڈیکس گر کر دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آ گئے۔ بازار میں اس گراوٹ کی بڑی وجہ ٹیکنالوجی کے ہیوی ویٹ حصص کو لگنے والا جھٹکا ہے، جو کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بلند بانڈ ییلڈز کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہوئے۔ سرمایہ کاروں کا مجموعی نقطہ نظر اس وقت منفی ہو گیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدیں ماند پڑنے لگیں۔ تجارتی حلقوں میں اس بات پر تشویش پائی جا رہی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی، جس نے مہنگائی کے خدشات کو ایک بار پھر ہوا دے دی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ بلند بانڈ ییلڈز اور مہنگائی کے دباؤ کی وجہ سے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کے حوالے سے فیصلے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والی بڑی کمپنیوں کے حصص میں ہونے والی فروخت نے مجموعی مارکیٹ کو نیچے کھینچنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وال اسٹریٹ پر سرمایہ کار اس وقت انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کیونکہ سیاسی اور جغرافیائی کشیدگی کے معاشی اثرات واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک بین الاقوامی سطح پر بالخصوص مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم نہیں ہوتی، بازار میں غیر یقینی کی یہ فضا برقرار رہ سکتی ہے۔ سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیو کو محفوظ بنانے کے لیے روایتی اور محفوظ اثاثوں کا رخ کر رہے ہیں جس کی وجہ سے حصص بازار سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں کارپوریٹ سیکٹر کے نتائج اور معاشی اعشاریے مارکیٹ کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم ترین کردار ادا کریں گے۔ تجارتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس دوران مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ مزید کچھ عرصہ جاری رہ سکتا ہے۔