Politics
مسلم لیگ ن کی آزاد کشمیر انتخابات میں فتح اور دو تہائی اکثریت کا دعویٰ
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس دوران آزاد کشمیر کے دیگر سیاسی حلقوں اور اتحادیوں میں بھی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔
اسلام آباد (نیکسورا نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ اس سیاسی پیشرفت کے بعد خطے میں سیاسی ہلچل مزید تیز ہو گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ انتخابات کے نتائج نے آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک نیا موڑ لایا ہے۔
دوسری جانب، اس انتخابی کامیابی اور پیشرفت کے تناظر میں مسلم لیگ ن نے آزاد جموں و کشمیر کی اسمبلی میں سات مخصوص نشستوں کے لیے بھی اپنے ٹکٹوں کا اعلان کر دیا ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارٹی قیادت نے تمام متعلقہ اُمیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دے دی ہے تاکہ قانون ساز اسمبلی میں جماعت کی پوزیشن کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اور قانون سازی کے عمل میں بھرپور کردار ادا کیا جا سکے۔
انتخابی نتائج کے بعد سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ ایکسپریس ٹ্রিبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک آزاد قانون ساز ساجد اقبال نے انتخابات میں اپ سیٹ کے بعد باضابطہ طور پر مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ اس شمولیت سے اسمبلی میں پارٹی کی عددی اکثریت میں مزید اضافہ ہوا ہے، جس سے حکومت سازی اور دیگر اہم فیصلوں میں مسلم لیگ ن کو نمایاں برتری حاصل ہو گئی ہے۔
اس تمام صورتحال کے باوجود دیگر سیاسی جماعتیں بالخصوص پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے اس دعوے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ دی نیوز پاکستان کے مطابق پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن کو چیلنج کیا ہے کہ وہ دونوں جماعتوں کی پچھلی چار دہائیوں کی گورننس اور کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیں۔ آزاد کشمیر کا یہ سیاسی منظرنامہ آنے والے دنوں میں مزید دلچسپ ہونے کی توقع ہے کیونکہ تمام جماعتیں اپنے سیاسی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔