LIVE
Loading Breaking News...

ایران اور عراق کے تعلقات: اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ کا اہم دورہ

News Image
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے دورہ عراق کے دوران خطے میں ایک نئے اور مستحکم سیاسی نظام کے قیام پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک کے درمیان باہمی تعاون خطے سے غیر ملکی مداخلت کے خاتمے کے لیے ناگزیر ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اپنے دورہ عراق کے دوران خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے نظام کی تشکیل ہو رہی ہے جو خطے کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بغداد میں عراقی حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقائی ممالک کو آپس میں متحد ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بیرونی طاقتوں کی مداخلت کو روکا جا سکے اور خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے عراق اور ایران کے درمیان گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا اشتراک عمل نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے لیے بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے اپنے خطاب کے دوران یہ بھی کہا کہ خطے کے ممالک اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ اپنی سکیورٹی اور ترقی کے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا علاقائی نظام ایسے اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے جو باہمی احترام، خود مختاری کے تحفظ اور اقتصادی تعاون کو فروغ دے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مغربی قوتوں کی جانب سے مسلط کردہ پالیسیوں کا دور اب ختم ہو رہا ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ علاقائی طاقتیں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک خود مختار بلاک کے طور پر ابھریں۔ ان کے اس دورے کو تہران اور بغداد کے درمیان سکیورٹی اور معاشی تعاون میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کے اسپیکر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی ہلچل بہت زیادہ ہے۔ عراق، جو طویل عرصے سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہا ہے، اب خود کو ایک ایسے ثالث کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کر سکے۔ ایرانی اسپیکر کی جانب سے 'نئے آرڈر' کی اصطلاح کا استعمال اس بات کا عکاس ہے کہ ایران خطے میں اپنی سفارتی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے اور عراق کو اس حکمت عملی میں ایک اہم اسٹریٹجک پارٹنر سمجھتا ہے۔ دورے کے اختتام پر دونوں ممالک کے رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقتصادی ترقی کے لیے مشترکہ کمیٹیاں بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے تاکہ خطے کے عوام کو بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکے۔