Politics
محمود اچکزئی کی مولانا فضل الرحمٰن کو نگران وزیراعظم بنانے کی حمایت
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے سیاسی بحران کے حل کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کو نگران وزیراعظم بنانے کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے ملک میں جاری سیاسی کشمکش اور بحران کے دوران ایک اہم سیاسی پیش رفت کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو نگران وزیراعظم کے طور پر حمایت کرنے پر اپنی آمادگی ظاہر کی ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بیان کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جماعتیں ماضی میں بھی اہم سیاسی معاملات پر باہم رابطے میں رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان حالیہ ملاقاتوں میں ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ موجودہ آئینی اور سیاسی ڈیڈ لاک کو توڑنے کے لیے تمام جمہوری قوتوں کو ایک مشترکہ لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔ محمود اچکزئی کا یہ موقف اس تناظر میں سامنے آیا ہے کہ ملک کو اس وقت ایک ایسے تجربہ کار اور متفقہ سیاسی رہنما کی ضرورت ہے جو تمام فریقین کو ساتھ لے کر چل سکے اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔
تاہم، اس تجویز پر دیگر بڑی سیاسی جماعتوں اور اتحادیوں کی جانب سے تاحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ فارمولا سیاسی محاذ پر ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے، لیکن اس کے عملی نفاذ کے لیے پارلیمانی جماعتوں کے درمیان وسیع تر اتفاق رائے کی اشد ضرورت ہوگی۔ دوسری جانب، جے یو آئی (ف) کی قیادت نے بھی اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ حتمی بیان جاری نہیں کیا ہے لیکن اندرون خانہ سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔