LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ کا پولیس تشدد اور احتجاج کے معاملے پر اہم اقدام

News Image
سپریم کورٹ نے چیف جسٹس کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کے مبینہ تشدد اور طاقت کے بے جا استعمال کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا عندیہ دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ طلبہ کے خلاف درج مقدمات کو ختم کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے چیف جسٹس کے خلاف ہونے والے حالیہ احتجاج اور اس کے دوران پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر طاقت کے بے جا استعمال اور تشدد کے واقعات کا سختی سے نوٹس لے لیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ان معاملات کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے ایک تین رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے، جو پولیس کے کردار اور احتجاجی مظاہرین پر تشدد کے الزامات کا جائزہ لے گی۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اس کمیٹی کو ذمہ داران کا تعین کرنے اور اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ ان قانونی مسائل پر بھی غور کر رہی ہے جو احتجاج کے بعد طلبہ اور دیگر افراد کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز (FIRs) سے متعلق ہیں۔ عدالت عظمیٰ کا ماننا ہے کہ طلبہ کے مستقبل کو محفوظ بنانا اور پرامن احتجاج کے حق کا احترام آئینی تقاضا ہے۔ اس تناظر میں عدالت ان تمام مجرمانہ کارروائیوں کو ختم کرنے کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے جو مبینہ طور پر انتقامی کارروائی یا سیاسی دباؤ کے تحت درج کی گئی تھیں۔ اس عدالتی اقدام سے ان طلبہ کو بڑی ریلیف ملنے کی امید ہے جو گزشتہ کچھ عرصے سے قانونی چارہ جوئی کا سامنا کر رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک بھر میں پولیس کے رویے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی تھی۔ قانون دانوں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی یہ کمیٹی مستقبل میں پولیس کو حدود میں رہنے اور پرامن شہریوں کے ساتھ محتاط رویہ اختیار کرنے کا واضح پیغام دے گی۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ تحقیقات کے عمل میں مکمل تعاون کریں تاکہ حقائق تک رسائی ممکن ہو سکے اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ مستقبل قریب میں کمیٹی کی تشکیل کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ احتجاج کے دوران پیش آنے والے تمام واقعات کی ایک مکمل تصویر سامنے آئے گی۔ عدالت کے اس دو طرفہ رویے سے، جس میں ایک جانب پولیس کے کردار کی تفتیش اور دوسری جانب طلبہ کے مقدمات کے خاتمے پر غور شامل ہے، عدالتی وقار میں مزید اضافہ ہوگا اور عوام کا قانون پر اعتماد بحال ہوگا۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس کیس کی سماعت آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے جس میں حتمی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔