LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ کا گیو ویکسین الائنس فنڈنگ بند کرنے کا فیصلہ، ڈبلیو ایچ او سے تنازع شدت اختیار کر گیا

News Image
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو گیوی ویکسین الائنس کی فنڈنگ سے الگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ قدم امریکہ اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور اختلافات کا تسلسل ہے۔
واشنگٹن: نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے تناظر میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور فیصلوں نے ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ تازہ ترین پیشرفت کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ساتھ جڑے ہوئے ویکسین الائنس 'گیو' (Gavi) کی فنڈنگ کو منقطع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ انتہائی اہم فیصلہ امریکہ اور اقوام متحدہ کے اس اہم طبی ادارے کے مابین طویل عرصے سے چلے آنے والے سنگین اختلافات اور چپقلش کا نتیجہ ہے۔ دنیا بھر میں صحت عامہ کے امور پر نظر رکھنے والے ماہرین اس پیشرفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے عالمی سطح پر ویکسین کی فراہمی کے پروگرام متاثر ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس طویل تنازع کا حصہ ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ اور اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے کے درمیان کورونا وائرس کی وباء کے دور سے شروع ہوا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دورِ حکومت میں عالمی ادارہ صحت پر جانبداری اور موثر اقدامات نہ اٹھانے کے شدید الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد امریکہ نے باضابطہ طور پر اس ادارے سے علیحدگی کے عمل کا آغاز بھی کیا تھا۔ اگرچہ بعد میںےے حالات میں کچھ تبدیلی آئی، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ اور عالمی طبی اداروں کے تعلقات میں کبھی بھی بہتری نہیں آسکی۔ گیوی ویکسین الائنس غریب اور ترقی پذیر ممالک میں بچوں کی بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکوں کی فراہمی کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈز جمع کرتا ہے اور اس میں امریکہ کا حصہ ہمیشہ سے نمایاں رہا ہے۔ اس نئے فیصلے کے بعد بین الاقوامی طبی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے فنڈنگ کی بندش سے ان لاکھوں بچوں اور کمزور طبقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو غریب ممالک میں ویکسینیشن پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں۔ دوسری طرف، ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ بین الاقوامی اداروں کو دینے کے بجائے ملکی مفاد میں استعمال ہونا چاہیے اور امریکی مفادات کو ہمیشہ ترجیح ملنی چاہیے۔ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے عالمی صحت کی پالیسیوں اور مالیاتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔