LIVE
Loading Breaking News...

AI ٹیکنالوجی سے قبل ادارہ جاتی تبدیلی: الینا کوکارینا کی بصیرت

News Image
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کے حصول سے پہلے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی لانا کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔ ٹیکنالوجی کا انتخاب ثانوی حیثیت رکھتا ہے جبکہ بنیادی کاروباری مقاصد کا تعین اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
آج کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) میں سرمایہ کاری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں کمپنیاں اپنے کاروباری عمل کو بہتر بنانے کے لیے کو-پائلٹس، خودکار ایجنٹس اور جنریٹو AI کا استعمال کر رہی ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے رہنما جن تبدیلیوں کی توقع کر رہے تھے، وہ حاصل کرنا اب بھی ایک مشکل چیلنج بنا ہوا ہے۔ معروف ماہر الینا کوکارینا کے مطابق، AI کے کامیاب نفاذ کا راز صرف ٹیکنالوجی کے انتخاب میں نہیں بلکہ اس سے پہلے کی جانے والی ادارہ جاتی تبدیلیوں میں مضمر ہے۔ ایک حالیہ تجزیہ جو سال 2026 کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ تقریباً 40 فیصد کمپنیاں اپنی توقعات کے مطابق نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ادارے جدید ٹیکنالوجی کو تو اپنا لیتے ہیں لیکن اپنے اندرونی کاروباری عمل یا ورک کلچر کو اس نئی ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالنے میں ناکام رہتے ہیں۔ کوکارینا کا استدلال ہے کہ جب تک آپ یہ واضح نہیں کر لیتے کہ آپ کا ادارہ AI سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، محض مہنگے ٹولز خریدنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ تنظیمی تبدیلی کے اس عمل میں سب سے پہلا قدم ملازمین کی مہارتوں میں اضافہ اور کام کے طریقہ کار کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا ہے۔ اگر کوئی کمپنی اپنے پرانے فرسودہ طریقوں پر ہی قائم رہے گی تو جدید ترین AI بھی اسے وہ کارکردگی فراہم نہیں کر سکے گا جس کی اسے ضرورت ہے۔ الینا کوکارینا اس بات پر زور دیتی ہیں کہ لیڈرشپ کو پہلے یہ طے کرنا چاہیے کہ ان کے کاروبار کے کون سے پہلوؤں کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے اور پھر اس کے لیے ایک واضح روڈ میپ تیار کرنا چاہیے۔ آخر میں، مصنوعی ذہانت کا کامیاب سفر تکنیکی برتری کے بجائے اسٹریٹجک سوچ سے شروع ہوتا ہے۔ تنظیموں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ AI صرف ایک ٹول نہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی تبدیلی کا نام ہے۔ جو ادارے تکنالوجی کے انتخاب سے پہلے اپنی بنیادوں کو درست کرتے ہیں، وہی طویل المدتی فوائد حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ لہذا، کاروباری قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنی حکمت عملیوں میں تبدیلی لائے اور تکنیکی انفراسٹرکچر سے پہلے اپنے تنظیمی مقاصد کو شفاف بنائے۔