Business
اے آئی سرمایہ کاری اور مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ: جے پی مورگن کی حکمت عملی
جے پی مورگن کی ماہر گیبریلا سانتوس نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مارکیٹ میں ممکنہ اتار چڑھاؤ سے بچنے کے لیے سرمایہ کاری کو متنوع بنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مختلف شعبوں اور جغرافیائی علاقوں میں سرمایہ کاری کرکے نقصانات کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
گلوبل فنانشل فرم جے پی مورگن کی حکمت عملی ساز گیبریلا سانتوس نے موجودہ عالمی معاشی منظرنامے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کی ٹیکنالوجی پر مبنی سرمایہ کاری میں درپیش خطرات کو کم کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں تیزی سے آتی ہوئی تبدیلیاں سرمایہ کاروں کے لیے غیر متوقع اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے بچنے کے لیے محتاط حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گیبریلا سانتوس کے مطابق، سرمایہ کاروں کو اپنی رقوم کو صرف ایک شعبے یا ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ اسے وسیع تر دائرہ کار میں تقسیم کرنا چاہیے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں سرمایہ کاری کا دائرہ کار بڑھانا ہی منافع کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ ہے۔ گیبریلا سانتوس کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ سرمایہ کاری کو مختلف جغرافیائی خطوں اور صنعتوں میں تقسیم کرنے سے کسی ایک سیکٹر میں آنے والی مندی کے اثرات کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح سے سرمایہ کار نہ صرف اپنے نقصانات کو کنٹرول کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے دیگر ترقیاتی مواقع سے بھی فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں آ جاتے ہیں۔ یہ طریقہ کار طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے ایک مضبوط ڈھال فراہم کرتا ہے۔
مزید برآں، موجودہ مارکیٹ کے رجحانات ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ اے آئی ٹیکنالوجی مستقبل کا سب سے بڑا مرکز ہے، لیکن اس میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ ایک فطری عمل ہے۔ جے پی مورگن کی جانب سے یہ تجویز دی گئی ہے کہ سرمایہ کاروں کو اپنے پورٹ فولیو میں ایسی کمپنیوں کو بھی شامل کرنا چاہیے جو اے آئی کے علاوہ دیگر روایتی اور مستحکم شعبوں میں بھی کام کر رہی ہوں۔ اس تنوع سے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے شدید دباؤ کے دوران تحفظ ملتا ہے۔ گیبریلا سانتوس کی یہ حکمت عملی ان سرمایہ کاروں کے لیے بہت اہم ہے جو اے آئی کے عروج سے فائدہ تو اٹھانا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ جڑے ہوئے مالیاتی خطرات کو بھی کم سے کم رکھنا چاہتے ہیں۔