World
کیف پر روسی میزائل حملہ، ایک ہلاک، زیلنسکی کا بیان
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ حملے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے اتحادیوں سے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی کے پرزور مطالبے کے فورا بعد کیے گئے ہیں۔
یوکرین کے دارالحکومت کیف پر روس کی جانب سے شدید میزائل حملے کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم ایک شہری کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب اس سے ایک روز قبل ہی یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکہ کا دورہ مکمل کرنے کے بعد خبردار کیا تھا کہ ملک کی سلامتی مکمل طور پر مغربی اتحادیوں کی طرف سے جدید اینٹی میزائل ڈیفنس سسٹمز کی فراہمی پر منحصر ہے۔ کیف میں ہونے والے ان دھماکوں نے شہر کے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور فضائی دفاعی سسٹمز نے کئی میزائلوں کو فضا میں ہی ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔ روسی افواج کی جانب سے یوکرینی شہروں بالخصوص دارالحکومت کو نشانہ بنانے کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں تیز ہوا ہے جب سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ صدر زیلنسکی نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ یوکرین کی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے اتحادی ممالک کو فوری اور فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یوکرین کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم نہ کیے گئے تو شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں رہیں گی۔ یوکرینی قیادت عالمی برادری سے مسلسل یہ اپیل کر رہی ہے کہ روس کے خلاف دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ اس قسم کے جانی و مالی نقصان کو روکا جا سکے۔ اس تازہ ترین حملے نے ایک بار پھر یوکرین میں جاری جنگ کی شدت اور شہریوں کو درپیش خطرات کو اجاگر کر دیا ہے، جبکہ اتحادی ممالک پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ یوکرین کی فوجی اور دفاعی مدد میں تیزی لائیں۔