LIVE
Loading Breaking News...

فلسطینی قیدیوں کے ماتھے پر نمبر لکھنے کا اسکینڈل اور تفصیلات

News Image
فلسطینی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فورسز نے قباطیہ میں ایک چھاپے کے دوران فلسطینی قیدی کے ماتھے پر ہندسہ درج کیا۔ اس واقعے کے بعد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فلسطینی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے قباطیہ میں ایک حالیہ اور شدید چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شہری کو حراست میں لیا جس کے ماتھے پر مبینہ طور پر نمبر '44' لکھا گیا تھا۔ اس واقعے کی تصاویر اور خبریں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئیں، جس نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور تنظیموں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عینی شاہدین اور مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حربے قیدیوں کی توہین اور ان کی نفسیاتی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی کی کارروائیاں اور گرفتاریاں کیں۔ اس دوران حراست میں لیے جانے والے افراد کے ساتھ مبینہ طور پر توہین آمیز رویہ روا رکھا گیا۔ ماتھے پر نمبر لکھنے کا یہ واقعہ فلسطینیوں کے خلاف جاری مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک اور کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے، جس پر بین الاقوامی برادری بالخصوص انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ اس واقعے پر اسرائیلی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ یا تسلی بخش مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم اس قسم کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ دوران حراست قیدیوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک بین الاقوامی قوانین اور جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی شفاف بین الاقوامی تحقیقات کروائی جائیں تاکہ ملوث افراد کو جوابدہ بنایا جا سکے۔ اس واقعے کے بعد مقبوضہ علاقوں میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ فلسطینی رہنماؤں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے دنیا بھر کے ممالک اور عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں فلسطینیوں پر ہونے والے مبینہ مظالم کا سخت نوٹس لیں اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری عملی اقدامات کریں۔