World
امریکہ اور ایران کشیدگی: اردن حملے کے بعد امریکی جوابی فضائی کارروائیاں
اردن میں امریکی فورسز پر ہونے والے حملے کے بعد امریکہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے طاقتور فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ ادھر ایرانی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ عراق میں مشترکہ امریکی اور سعودی حملوں کے نتیجے میں چار ایرانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
خطے میں جاری کشیدگی میں اس وقت انتہائی خطرناک موڑ آ گیا جب اردن میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد امریکہ نے سخت جوابی اقدامات کا آغاز کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ پیشرفت اس وقت ہوئی جب پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے مبینہ طور پر اردن میں ایک ہدف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے ردعمل میں واشنگٹن نے انتہائی طاقتور اور فیصلہ کن فضائی حملے شروع کرنے کا اعلان کیا۔ اس صورتحال نے مشرق وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ کے خدشات کو شدید تر کر دیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے اندر ہونے والے مشترکہ امریکی اور سعودی حملوں کے نتیجے میں چار ایرانی شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔ اس خبر کے سامنے آنے کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذ پر تناؤ اپنے عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ایرانی حکام نے اس جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے، جبکہ خطے میں موجود تمام امریکی تنصیبات اور فوجیوں کو انتہائی درجے کی سکیورٹی پر مامور کر دیا گیا ہے۔عالمی رہنماؤں نے دونوں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ تاہم زمینی حقائق یہ بتا رہے ہیں کہ کسی بھی وقت کوئی بھی بڑا عسکری اقدام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جس سے توانائی کی سپلائی لائنز اور عالمی معیشت کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔