LIVE
Loading Breaking News...

میٹا کا بچوں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ

News Image
بھارتی حکومت کے ساتھ حالیہ سخت مذاکرات کے بعد میٹا نے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد (CSAM) کے تدارک کے لیے اپنی پالیسیوں کو مزید فعال کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق کمپنی اس سنگین مسئلے پر پہلے سے زیادہ محتاط رویہ اپنا رہی ہے۔
نئی دہلی: الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ذرائع کے مطابق، بھارتی حکومت اور میٹا کے درمیان حالیہ سخت مذاکرات کے بعد کمپنی نے بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد (CSAM) کے معاملے پر اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے دی گئی واضح تنبیہ کے بعد میٹا انتظامیہ اب اس حساس معاملے پر پہلے سے کہیں زیادہ محتاط دکھائی دے رہی ہے اور اپنی پلیٹ فارمز پر ایسی کسی بھی سرگرمی کو روکنے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور انسانی نگرانی کے عمل کو بہتر بنا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں میٹا کی جانب سے اس طرح کے مواد کی روک تھام میں تاخیر یا غفلت برتے جانے پر حکومت نے سخت برہمی کا اظہار کیا تھا۔ میٹنگ کے دوران حکومتی حکام نے واضح کیا تھا کہ بچوں کی حفاظت سے متعلق کسی بھی قسم کی کوتاہی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، چاہے وہ معاملہ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو۔ اس سخت پیغام کے بعد، میٹا نے اپنے اندرونی حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غیر قانونی اور اخلاقی طور پر قابل اعتراض مواد کو عوامی سطح پر پھیلنے سے روکا جا سکے۔ نئی حکمت عملی کے تحت، میٹا نے اپنے الگورتھمز کو مزید جدید بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ اس طرح کے مواد کو اپ لوڈ ہونے سے پہلے ہی شناخت کر سکیں۔ کمپنی اب اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ کیسے قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے صارفین کی پرائیویسی کو برقرار رکھا جائے اور ساتھ ہی ساتھ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس اقدام کو ٹیک انڈسٹری میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے حکومتی دباؤ کارگر ثابت ہو رہا ہے۔ مزید برآں، وزارت کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں بھی میٹا سمیت دیگر تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی جاری رکھیں گے۔ حکومت کا مقصد صرف ایک ایسا محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے جہاں بچوں اور نوعمروں کو کسی بھی قسم کے ہراسانی یا استحصال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ توقع ہے کہ میٹا کے اس نئے اور محتاط رویے کے بعد پلیٹ فارم پر رپورٹنگ کے عمل میں بھی تیزی آئے گی اور متاثرین کو فوری انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔