Technology
کوپرنک آبزرویٹری بیلون فلائٹ ٹریکنگ مشن
کوپرنک آبزرویٹری ویسٹرن نیویارک میں ایک تعلیمی غبارے کی پرواز کی ٹریکنگ کے لیے شوقیہ ریڈیو آپریٹرز کی مدد حاصل کر رہی ہے۔ یہ اقدام 19 اگست کو ہونے والے سائنسی مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد STEM تعلیم کو فروغ دینا ہے۔
ویسٹرن نیویارک میں واقع کوپرنک آبزرویٹری نے 19 اگست کو منعقد ہونے والی اپنی ایک اہم سائنسی پرواز کے لیے شوقیہ ریڈیو آپریٹرز سے مدد کی درخواست کی ہے۔ کوپرنک آبزرویٹری جو کہ ویسٹل، نیویارک میں ایک معروف عوامی آبزرویٹری اور STEM تعلیمی مرکز ہے، اس مشن کے ذریعے طلباء اور شوقیہ افراد میں سائنسی تجسس کو بیدار کرنا چاہتی ہے۔ اس پرواز کا مرکزی مقصد ایک تعلیمی غبارے کو فضا میں بلند کرنا ہے، جس کی درست ٹریکنگ کے لیے ریڈیو آپریٹرز کی تکنیکی معاونت درکار ہے۔
کوپرنک آبزرویٹری کے ڈائریکٹر ڈریو ڈیسکور، جن کا کال سائن KA1M ہے، نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ پرواز محض ایک تجربہ نہیں بلکہ ایک آموزشی عمل ہے۔ ویسٹرن نیویارک اور شمال مشرقی ریاستوں میں موجود شوقیہ ریڈیو آپریٹرز اپنے آلات کا استعمال کرتے ہوئے اس غبارے کے سگنلز کو ٹریک کر سکتے ہیں، جس سے نہ صرف مشن کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ یہ آپریٹرز کے لیے اپنی مہارتوں کو جانچنے کا ایک بہترین موقع بھی ہوگا۔ اس طرح کی مشترکہ کوششیں سائنسی برادری اور شوقیہ ریڈیو کے شوقین افراد کے مابین تعلقات کو مزید مضبوط بناتی ہیں۔
اس مشن میں شامل ہونے والے افراد کو غبارے سے خارج ہونے والے ڈیٹا اور مقام کی درستگی کی نگرانی کرنی ہوگی۔ آبزرویٹری کا ماننا ہے کہ عوامی شمولیت کے بغیر اس طرح کے سائنسی منصوبوں کا اہتمام کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا ایک بنیادی ترجیح ہے۔ 19 اگست کو ہونے والی یہ سرگرمی ان تمام افراد کے لیے کھلی ہے جو ریڈیو فریکوئنسیز اور فلائٹ ٹریکنگ میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس پرواز کے ذریعے حاصل ہونے والا ڈیٹا بعد ازاں تعلیمی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو خلا اور ٹیکنالوجی کی دنیا سے روشناس کرایا جا سکے۔
حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ علاقائی سطح پر ریڈیو آپریٹرز کی بھرپور شرکت سے یہ مشن اپنی اہداف کو کامیابی سے حاصل کر لے گا۔ کوپرنک آبزرویٹری نے اس سلسلے میں ایک تفصیلی ہدایت نامہ بھی جاری کیا ہے تاکہ شرکاء کو ٹریکنگ کے عمل میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مستقبل میں بھی اس طرح کے کئی پروگرام منعقد کیے جانے کا امکان ہے جن کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبوں میں نئی نسل کی دلچسپی کو بڑھانا ہے۔