LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا ایٹمی ہتھیاروں کے حصول پر کیوں غور کر رہا ہے؟

News Image
موجودہ عالمی سیکیورٹی کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں جنوبی کوریا کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ شمالی کوریا کے ایٹمی پروگرام کے پیش نظر اب سیول میں بھی ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کے بارے میں سنجیدہ بحث شروع ہو گئی ہے۔
دنیا بھر میں سیکیورٹی کا ڈھانچہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے جس نے کئی ممالک کو اپنی دفاعی ترجیحات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یورپ میں جاری روایتی جنگ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں بڑھتے ہوئے کشیدگی کے سائے نے عالمی طاقتوں کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں جنوبی کوریا ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں اسے اپنی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مشکل ترین فیصلوں کا سامنا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے لگاتار بیلسٹک میزائل تجربات اور ایٹمی صلاحیتوں میں اضافے نے سیول کے لیے خطرات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا طویل عرصے سے امریکہ کی 'ایٹمی چھتری' پر انحصار کرتا آیا ہے، تاہم اب خطے میں بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل حالات کے بعد یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ حفاظتی انتظامات کافی ہیں۔ سیول کے پالیسی ساز اب اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا جنوبی کوریا کو اپنا آزاد ایٹمی پروگرام شروع کرنا چاہیے یا پھر امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں کو مزید مضبوط کرنا چاہیے۔ یہ بحث جنوبی کوریا کے عوام اور سیاسی حلقوں میں ایک گہرا تقسیم پیدا کر چکی ہے، کیونکہ ایٹمی طاقت بننے کے عالمی سفارتی نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔ چین اور روس جیسے پڑوسی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ کی داخلی سیاست میں تبدیلیوں کے امکانات نے بھی اس بحث کو مزید گرم کر دیا ہے۔ اگر جنوبی کوریا ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی جانب بڑھتا ہے تو اس سے پورے خطے میں ایک نیا ایٹمی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے، جس سے خطے کا استحکام داؤ پر لگ سکتا ہے۔ دوسری طرف، شمالی کوریا کے مسلسل بڑھتے ہوئے جارحانہ رویے کے پیش نظر عوام کا ایک بڑا طبقہ اسے اپنے دفاع کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ جنوبی کوریا کا یہ ایٹمی مخمصہ صرف ایک ملکی مسئلہ نہیں بلکہ یہ عالمی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدوں کے لیے بھی ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔ آنے والے وقت میں جنوبی کوریا کا فیصلہ پورے مشرقی ایشیا کے سیکیورٹی آرکیٹیکچر کو نئی شکل دے سکتا ہے۔