LIVE
Loading Breaking News...

نکاراگوا: ڈینیئل اورٹیگا کا انتخابات سے مخالفین کو باہر کرنے کا فیصلہ

News Image
نکاراگوا کے صدر ڈینیئل اورٹیگا نے ملک کے سیاسی منظر نامے کو مزید محدود کرتے ہوئے مستقبل کے انتخابات سے مبینہ غداروں کو باہر رکھنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ وہ پہلے ہی سول سوسائٹی کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں مرکوز کر چکے ہیں۔
نکاراگوا کے صدر ڈینیئل اورٹیگا نے ملک کے سیاسی اور انتخابی نظام میں مزید سخت ترامیم لاتے ہوئے آئندہ انتخابات سے مبینہ غداروں اور مخالفین کو مکمل طور پر باہر رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ملک بھر میں اپوزیشن کی آواز کو مکمل طور پر دبانا اور حکمران جماعت کے تسلط کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ قدم نکاراگوا کی سیاست میں جمہوریت کے آخری آثار کو بھی مٹانے کے مترادف ہے۔ ڈینیئل اورٹیگا نے پچھلے کچھ برسوں کے دوران ملک میں سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور آزاد میڈیا کے خلاف ایک وسیع اور سخت کریک ڈاؤن کی نگرانی کی ہے۔ انہوں نے ریاستی مشینری کا استعمال کرتے ہوئے تمام اہم اختیارات اور طاقت کو اپنے اور اپنے قریبی حلقے کے ہاتھوں میں مرکوز کر لیا ہے، جس سے ملک میں آمریت کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس نئی سیاسی حکمت عملی کے تحت، حکومت کے کسی بھی ناقد یا سیاسی مخالف کو قانونی و آئینی طریقوں سے انتخابات میں حصہ لینے سے روکا جا سکے گا، جس سے آئندہ انتخابات کی شفافیت پر پہلے ہی شدید سوالیہ نشان لگ چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے نکاراگوا کی حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان قدامت پسندانہ اور جابرانہ اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں سے نہ صرف جمہوری اقدار کا جنازہ نکل رہا ہے بلکہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق بھی پامال ہو رہے ہیں۔ نکاراگوا کے اندر اور باہر بڑھتی ہوئی تنقید کے باوجود، اورٹیگا حکومت اپنے موقف پر قائم نظر آتی ہے اور ملک کے سیاسی منظر نامے پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے۔