Business
سورس پاس کی قیادت میں بڑی تبدیلی: مارکس ہولوے نئے سی ای او مقرر
سورس پاس نے مارکس ہولوے کو اپنی کمپنی کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کر دیا ہے، جبکہ بانی چک کینٹن ایگزیکٹو چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ یہ تبدیلی کمپنی کی مستقبل کی ترقی اور جدت طرازی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عمل میں لائی گئی ہے۔
امریکہ کی تیزی سے ترقی کرنے والی معروف مینیجڈ سروسز اور سیکیورٹی پرووائیڈر کمپنی، سورس پاس (Sourcepass) نے اپنی اعلیٰ انتظامی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق مارکس ہولوے کو کمپنی کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرری کمپنی کی جانب سے اپنی کاروباری وسعت، جدت طرازی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مارکس ہولوے اپنے وسیع تجربے اور مہارت کے ساتھ کمپنی کی مستقبل کی کامیابیوں کے سفر میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
اس تبدیلی کے ساتھ ہی کمپنی کے بانی اور سابق سی ای او، چک کینٹن نے اپنے عہدے سے سبکدوش ہو کر ایگزیکٹو چیئرمین (Executive Chairman) کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ چک کینٹن کی قیادت میں سورس پاس نے مختصر عرصے میں مارکیٹ میں اپنی ایک مضبوط پہچان بنائی ہے۔ ایگزیکٹو چیئرمین کے طور پر وہ اب کمپنی کی تزویراتی سمت، بورڈ کی رہنمائی اور طویل مدتی ترقی کے اہداف پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے۔ کمپنی کا ماننا ہے کہ قیادت میں یہ تبدیلی تنظیم کو ایک نئی بلندیوں تک لے جانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
نئے سی ای او مارکس ہولوے نے اپنی تقرری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ سورس پاس کی موجودہ ٹیم کے ساتھ کام کرنے اور کمپنی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سورس پاس اپنے کلائنٹس کو جدید ترین سیکیورٹی اور آئی ٹی خدمات فراہم کرنا جاری رکھے گا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ قیادت کی تبدیلی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے شعبے میں مسابقت بڑھ رہی ہے اور کمپنی اپنی پوزیشن کو برقرار رکھنے کے لیے پر امید ہے۔
سورس پاس کے حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ قیادت کی تبدیلی کمپنی کے آپریشنز میں شفافیت اور تسلسل کو یقینی بنائے گی۔ تمام اسٹیک ہولڈرز اور شراکت داروں کے لیے یہ اعلان ایک مثبت پیغام ہے کہ کمپنی ترقی کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں سورس پاس کی جانب سے نئی خدمات کے اجرا اور مزید تزویراتی اتحادوں کی توقع کی جا رہی ہے جس سے اس کے کسٹمر بیس میں مزید اضافہ ہوگا۔