Business
اے این زیڈ بینک مینیجر کیس: فیئر ورک کا بڑا فیصلہ
آسٹریلیا کے بینک اے این زیڈ کے ایک ٹیکنالوجی مینیجر نے دعویٰ کیا کہ ورک فرام ہوم کی درخواست مسترد ہونے پر انہیں نوکری چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ تاہم، فیئر ورک کمیشن نے تحقیقات کے بعد پایا کہ انہوں نے یہ فیصلہ کسی اور ملازمت کی پیشکش ملنے کے بعد خود کیا تھا۔
آسٹریلیا کے معروف بینک 'اے این زیڈ' (ANZ) کے ایک ٹیکنالوجی مینیجر نے اپنے ادارے کے خلاف ورک فرام ہوم (گھر سے کام کرنے) کی سہولت نہ ملنے پر استعفیٰ دینے کا دعویٰ کیا تھا، تاہم فیئر ورک کمیشن کی جانب سے کیے گئے فیصلے نے اس کیس کا رخ موڑ دیا ہے۔ ہری کمار بالاکرشنن نامی مینیجر نے الزام لگایا تھا کہ بینک انتظامیہ کی جانب سے ان کی گھر سے کام کرنے کی درخواست کو مسترد کرنا دراصل انہیں ملازمت چھوڑنے پر مجبور کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس رویے نے ان کے کام کے ماحول کو ناقابل برداشت بنا دیا تھا۔
عدالتی کارروائی کے دوران جب حقائق کا جائزہ لیا گیا تو فیئر ورک کمیشن کے جج نے کچھ ایسے شواہد دریافت کیے جنہوں نے مینیجر کے دعووں کو کمزور کر دیا۔ تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ متعلقہ مینیجر نے بینک سے استعفیٰ دینے سے کافی عرصہ قبل ہی ایک دوسری کمپنی کے ساتھ ملازمت کے لیے معاہدہ کر لیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملازم کا یہ موقف کہ وہ بینک کے رویے کی وجہ سے مستعفی ہونے پر مجبور ہوا، حقیقت کے برعکس ہے، کیونکہ وہ پہلے ہی اپنے کیریئر کے اگلے قدم کے لیے تیاری کر چکے تھے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ورک فرام ہوم کی درخواست مسترد ہونا کوئی ایسا سنگین واقعہ نہیں تھا جس کی بنیاد پر اسے 'مجبوری میں دیا گیا استعفیٰ' قرار دیا جائے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایک ملازم کا دوسری جگہ نوکری تلاش کر لینا اور پھر موجودہ کمپنی پر الزامات لگا کر چھوڑ دینا قانونی طور پر 'تعمیری برخاستگی' (Constructive Dismissal) کے زمرے میں نہیں آتا۔ جج نے ریمارکس دیے کہ بینک کا اپنی آپریشنل ضروریات کے مطابق ورک فرام ہوم کی پالیسی کو نافذ کرنا اس کا انتظامی حق ہے، اور اسے ملازم کو پریشان کرنے کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس کیس نے آسٹریلیا کے کارپوریٹ سیکٹر میں ورک فرام ہوم کے حوالے سے جاری بحث کو ایک نئی جہت دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ دور جدید میں گھر سے کام کرنا ایک اہم سہولت ہے، لیکن قانونی فورمز اب ان الزامات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں جہاں ملازمین اسے ملازمت چھوڑنے کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اے این زیڈ بینک کی جانب سے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا ہے، جبکہ یہ کیس دیگر ملازمین اور آجروں کے لیے ایک سبق ہے کہ ملازمت کے خاتمے کے دعووں کے پیچھے حقائق کا شفاف ہونا کتنا ضروری ہے۔