LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل اور کینیڈا میں کشیدگی، مغربی کنارے کی بستیوں پر نیا سفارتی تنازعہ

News Image
کینیڈا نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں غیر قانونی بستیوں کو امن اور سلامتی کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے کینیڈا کے اس بیان پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔
اسرائیل نے کینیڈا کے اس سرکاری بیان پر شدید تنقید کی ہے جس میں کینیڈا نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع کی کھل کر مخالفت کی تھی۔ کینیڈین حکومت کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس طرح کے اقدامات خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے ہیں۔ کینیڈا کا یہ مؤقف بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے عین مطابق ہے جو مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں۔ کینیڈین وزارت خارجہ کے اس بیان نے بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی ہے کیونکہ روایتی طور پر مغربی ممالک کے بیانات میں اس نوعیت کی واضح اور دوٹوک الفاظ کم ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ کینیڈا کے اس بیان کے سامنے آنے کے فورا بعد اسرائیلی حکومت اور وزارت خارجہ کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ کینیڈا کا یہ موقف زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کرتا ہے اور اس سے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کو حل کرنے کی کوششوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ علاقے تاریخی اور سلامتی کے اعتبار سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور ان پر اسرائیلی دعوے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیلی رہنماؤں نے کینیڈین حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کے یکطرفہ بیانات دینے سے گریز کرے جو خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ اس تازہ سفارتی تنازعے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، مغربی ممالک کے درمیان اس قسم کے اختلافات بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک نیا موڑ لے کر آ رہے ہیں، جہاں اتحادی ممالک بھی اسرائیل اور فلسطین کے تنازعے پر بظاہر تقسیم نظر آتے ہیں۔ کینیڈا کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم اگرچہ علامتی نوعیت کا ہے، لیکن اس کی سفارتی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس سے فلسطین کے حقوق کی حمایت کرنے والے ممالک کے بیانات کو مزید تقویت ملی ہے۔ دوسری طرف، اسرائیل اس بات پر بضد ہے کہ وہ اپنے سکیورٹی مفادات اور تزویراتی مقاصد کے تحت مغربی کنارے میں اپنی پالیسیوں کو جاری رکھے گا، جس سے آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سفارتی محاذ پر مزید گرما گرمی متوقع ہے۔