World
ایران کا یورپی فوجی اڈوں پر حملے کا عندیہ، نیٹو کی سیکیورٹی سخت
مغربی ذرائع کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ میں شدت لائی گئی تو یورپ میں موجود فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد نیٹو نے یورپی ممالک میں سیکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان تازہ ترین رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ممکنہ جنگ کی صورت میں یورپ میں واقع فوجی تنصیبات کو اپنے اہداف کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق، تہران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت اور پالیسیوں کے حوالے سے نئی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف یورپ بلکہ نیٹو اتحاد کی نیندیں اڑا دی ہیں، جس کے بعد رکن ممالک میں سیکیورٹی کے حفاظتی اقدامات کو فوری طور پر سخت کر دیا گیا ہے۔ بلغاریہ اور قبرص جیسے ممالک نے اپنے ہوائی اڈوں اور فوجی تنصیبات پر نگرانی بڑھا دی ہے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
دوسری جانب، برطانوی حکام نے بھی قبرص میں واقع اپنے فوجی اڈے 'اکروٹیری' کی سیکیورٹی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم قبرصی حکام کا موقف ہے کہ ان کا ملک براہ راست ایرانی ہدف نہیں ہے اور تمام احتیاطی تدابیر معمول کا حصہ ہیں۔ نیٹو کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اتحاد اپنے تمام رکن ممالک کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔ فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ عندیہ دراصل مغربی طاقتوں پر دباؤ ڈالنے کی ایک حکمت عملی ہے تاکہ خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری مہم جوئی سے گریز کیا جا سکے۔
خطے میں جاری اس بحرانی کیفیت کے پیش نظر عالمی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور سفارتی سطح پر رابطوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو یہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یورپ بھی اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ نیٹو کی جانب سے ہائی الرٹ کا اعلان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مغربی دنیا اس ایرانی دھمکی کو محض بیان بازی نہیں سمجھ رہی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایرانی قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ لفظی جنگ کسی بڑے تصادم کی طرف جاتی ہے یا سفارتی ذرائع سے معاملات کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔