LIVE
Loading Breaking News...

امریکی بانڈ یلڈز میں غیر متوقع کمی: مالیاتی منڈیوں پر اثرات

News Image
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے حکومتی قرضوں کی ری پرچیزنگ کے حجم میں اضافے کے اعلان کے بعد بانڈ مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ اس اقدام کا مقصد تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح سود کے دباؤ کو کم کرنا اور مالیاتی منڈیوں میں استحکام لانا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ہلچل مچ گئی جب امریکی محکمہ خزانہ نے تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح سود کو قابو کرنے کے لیے ایک غیر متوقع اور اہم قدم اٹھایا۔ محکمہ خزانہ کی جانب سے حکومتی قرضوں کی ری پرچیزنگ (Debt Repurchase) کے حجم کو دوگنا کرنے کا اعلان کیا گیا، جس کا فوری اثر بانڈ مارکیٹ پر دکھائی دیا۔ طویل عرصے سے جاری بانڈز کی فروخت کے دباؤ میں اچانک کمی واقع ہوئی اور بانڈ یلڈز، جو کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھیں، نیچے آ گئیں۔ سرمایہ کاروں نے اس فیصلے کو مالیاتی استحکام کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہوا ہے کیونکہ امریکی بانڈز کو عالمی مالیاتی نظام میں ایک اہم پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ بانڈ یلڈز میں کمی کے ساتھ ہی سونے کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس میں ایک ہی دن میں تین فیصد تک کی تیزی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب یورپ کی مارکیٹوں میں بھی بانڈ سیل آف کا دباؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں بھی اضافے کا رجحان رہا۔ ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ محکمہ خزانہ کا یہ فیصلہ دراصل ان خدشات کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے جو بڑھتی ہوئی شرح سود کی وجہ سے عالمی کساد بازاری کے حوالے سے پائے جاتے تھے۔ حکومتی قرضوں کی خریداری بڑھانے سے مارکیٹ میں لیکویڈیٹی (نقد رقم کی دستیابی) میں بہتری آئے گی، جس سے طویل مدتی قرضوں پر شرح سود کو متوازن رکھنے میں مدد ملے گی۔ اس فیصلے سے امریکی فیڈرل ریزرو کی پالیسیوں پر بھی نظریں جم گئی ہیں اور مبصرین اب یہ دیکھ رہے ہیں کہ آیا یہ اقدام طویل مدتی معاشی نمو کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں۔ فی الحال منڈیوں میں ایک محتاط پرامیدی کا ماحول ہے اور سرمایہ کار حکومتی اقدامات کے مزید اثرات کا انتظار کر رہے ہیں۔