Business
ڈی پی ڈی پی ایکٹ: بھارتی کمپنیوں کی تیاری اور چھوٹے کاروباروں کے مسائل
بھارت میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کے نفاذ کے قریب آتے ہی بڑی کمپنیاں تو تیاریوں میں مصروف ہیں، لیکن چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے اب بھی عمل درآمد کے چیلنجز سے نبردآزما ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیٹا پروٹیکشن کے سخت معیارات پر پورا اترنے کے لیے چھوٹے اداروں کو تکنیکی اور قانونی معاونت کی اشد ضرورت ہے۔
بھارت میں ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن (DPDP) ایکٹ کے نفاذ کا مرحلہ قریب آتے ہی کارپوریٹ سیکٹر میں ایک نئی ہلچل مچ گئی ہے۔ حالیہ رپورٹس اور تجزیات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بڑی کارپوریٹ کمپنیاں تو ان نئے قوانین کے مطابق اپنی داخلی پالیسیوں اور ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے لیے تیز رفتاری سے کام کر رہی ہیں، تاہم ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) ابھی تک اس معاملے میں پیچھے ہیں۔ ان چھوٹی کمپنیوں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک صرف اس بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ قوانین ان کے روزمرہ کے کاروباری امور اور ڈیٹا ہینڈلنگ پر کس طرح اثر انداز ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق، کارپوریٹ انڈیا میں تیاری کی سطح غیر متوازن ہے۔ بڑی کمپنیوں کے پاس قانونی مشیروں اور آئی ٹی ماہرین کی ایک بڑی ٹیم موجود ہے جو ڈیٹا کی حفاظت کے لیے ضروری پروٹوکولز کو یقینی بنا رہی ہے، لیکن چھوٹے کاروباری اداروں کے پاس نہ تو اتنا سرمایہ ہے اور نہ ہی تکنیکی مہارت۔ بہت سے چھوٹے کاروباروں کے لیے ڈیٹا پرائیویسی کے نئے معیارات پر پورا اترنا ایک بڑا مالی بوجھ بن چکا ہے۔ ان اداروں کا ماننا ہے کہ ڈیٹا مینجمنٹ کے لیے سافٹ ویئر اور ماہرین کی خدمات حاصل کرنا ان کے موجودہ بجٹ سے باہر ہے، جس کی وجہ سے وہ نفاذ کے عمل میں تاخیر کا شکار ہیں۔
مزید برآں، ڈی پی ڈی پی کے قوانین کے تحت ڈیٹا کی حفاظت میں کوتاہی پر بھاری جرمانے عائد کیے جانے کا امکان ہے، جو چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہے۔ اگرچہ حکومت نے ان قوانین کے نفاذ کے لیے ایک عبوری مدت فراہم کی ہے، لیکن چھوٹے کاروباری طبقے کا مطالبہ ہے کہ حکومت اور بڑی ٹیک کمپنیاں ان کی رہنمائی کریں تاکہ وہ ڈیجیٹل دور کے ان نئے ضوابط کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کر سکیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹے اداروں کو سادہ اور قابل عمل حل فراہم کیے جائیں تاکہ وہ قانونی پیچیدگیوں میں پھنسے بغیر اپنے کاروبار کو ڈیجیٹل تحفظ فراہم کر سکیں۔
حتمی تجزیے میں، یہ واضح ہے کہ ڈی پی ڈی پی کا نفاذ صرف بڑی کمپنیوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پورے معاشی ایکو سسٹم کی ضرورت ہے۔ اگر چھوٹے کاروباری ادارے وقت پر ان معیارات کو اپنانے میں ناکام رہتے ہیں، تو اس سے نہ صرف ان کی اپنی ساکھ متاثر ہوگی بلکہ پورے ملک میں ڈیجیٹل ڈیٹا سیکیورٹی کا معیار بھی غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا حکومت چھوٹے کاروباروں کو کوئی خصوصی رعایت یا تکنیکی معاونت فراہم کرتی ہے تاکہ وہ بھی اس ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں پیچھے نہ رہ جائیں۔