LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں گرمی کی لہر اور میڈیا کا کردار

News Image
برطانیہ میں حالیہ ہیٹ ویو کے دوران ہزاروں ہلاکتوں کے بعد میڈیا کی کوریج پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمی کی شدت کو نظر انداز کرنا عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
برطانیہ سمیت یورپ کے کئی حصوں میں گزشتہ کچھ عرصے کے دوران شدید گرمی کی لہر نے نظام زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ برطانوی میڈیا میں اس حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس خاص طور پر 'ڈیلی میل' کے ایک مضمون پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، جس میں موسم گرما کی اس مہلک لہر کو تفریح اور سورج کی روشنی سے جوڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ میں ہیٹ ویو کی وجہ سے اب تک کم از کم 2800 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جس کے بعد حکومتی اقدامات اور میڈیا کے رویے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں آنے والی اس طرح کی شدید گرمی کو عام موسم کی طرح پیش کرنا عوامی شعور کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔ ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے برطانیہ میں گرمی کی شدت میں اضافہ ایک حقیقت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جس طرح گرمی کے موسم کو محض تفریح کا نام دے کر اس کی شدت کو چھپایا گیا، وہ دراصل ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہے جو اس گرمی کی وجہ سے متاثر ہو رہے ہیں۔ ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور خاص طور پر بزرگ شہریوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ حکومت کی جانب سے ہیٹ ویو کے لیے جاری کردہ ایڈوائزری اور حفاظتی اقدامات پر بھی بحث کی جا رہی ہے کہ کیا وہ کافی ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب، 'ڈی کالونائز ہاؤ؟ ڈائجسٹ' جیسے پلیٹ فارمز نے ان 'چھپے ہوئے حقائق' کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح میڈیا اداروں کے مفادات عوامی مسائل کے حل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ بحث کا محور یہ ہے کہ کیا میڈیا کو موسمیاتی بحران کے دوران اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے یا اسے تفریحی مواد کے طور پر پیش کرنا جاری رکھنا چاہیے۔ عوام کا ایک بڑا طبقہ مطالبہ کر رہا ہے کہ گرمی کی لہر کو ایک قدرتی آفت کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کے مطابق ہنگامی منصوبہ بندی کی جائے۔ آنے والے وقتوں میں برطانیہ اور یورپ کو مزید شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، لہذا صرف میڈیا رپورٹنگ میں تبدیلی ہی نہیں بلکہ پالیسی سازی میں بھی ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔