LIVE
Loading Breaking News...

بائیلسا پولی ٹیکنک تنازع: ریکٹر کی تقرری پر اساتذہ کی تنظیم کا احتجاج

News Image
تعلیمی عملے کی تنظیم ASUP نے بائیلسا پولی ٹیکنک کے ریکٹر ڈاکٹر وزڈم سوری کی دوبارہ تقرری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ تقرری کے عمل میں پائی جانے والی مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کی جائیں۔
بائیلسا پولی ٹیکنک کے تعلیمی اور انتظامی حلقوں میں اس وقت شدید بے چینی پائی جاتی ہے جب اکیڈمک اسٹاف یونین آف پولی ٹیکنکس (ASUP) نے ادارے کے ریکٹر ڈاکٹر وزڈم سوری کی دوبارہ تقرری کے فیصلے کے خلاف احتجاج کی دھمکی دی ہے۔ تنظیم کا موقف ہے کہ یہ تقرری قانونی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کی گئی ہے اور اس میں کئی سنگین بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔ ASUP کی مقامی شاخ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ریاستی حکومت نے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس نہ لیا تو ینگوآ شہر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ تنظیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریکٹر کی دوبارہ تقرری کے عمل میں مبینہ طور پر دستاویزات کی بیک ڈیٹنگ کی گئی ہے جو نہ صرف تعلیمی قوانین بلکہ گورننس کے اصولوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ASUP کے مطابق، اس قسم کے اقدامات پولی ٹیکنک کی انتظامی خود مختاری کو کمزور کرتے ہیں اور ادارے کے وقار کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا شفاف جائزہ لے اور ایسے افراد کو کلیدی عہدوں پر فائز نہ کیا جائے جن کی تقرری پر سوالات اٹھ رہے ہوں۔ اس صورتحال نے پولی ٹیکنک کے طلباء اور اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، کیونکہ احتجاج کی صورت میں تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوسکتی ہیں۔ ASUP نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہیں اور تب تک خاموش نہیں بیٹھیں گے جب تک ان کے تحفظات کو دور نہیں کیا جاتا۔ دوسری جانب انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ معاملہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ مستقبل قریب میں اگر اس مسئلے کا کوئی حل نہ نکالا گیا تو بائیلسا پولی ٹیکنک میں ہڑتالوں کا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے، جس سے تعلیمی سیشن کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ASUP کی قیادت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے میرٹ اور قانون کی حکمرانی کو ترجیح دے تاکہ ادارے کا تعلیمی ماحول برقرار رہ سکے۔