World
مصر پورٹ دھماکہ اور عراق حملے: مشرق وسطیٰ جنگ میں نیا موڑ
مصر کی بحیرہ روم کی بندرگاہ پر ڈرون حملے کے نتیجے میں گیس اسٹوریج ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ عراق میں بھی فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ان کارروائیوں سے خطے میں جاری تنازع کے دائرہ کار میں توسیع کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب اپنے روایتی دائرہ کار سے نکل کر نئے اور غیر متوقع محاذوں تک پھیلتی دکھائی دے رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق مصر کی بحیرہ روم پر واقع دمیاط بندرگاہ پر ایک ڈرون حملہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں گیس اسٹوریج ٹینکر کو نقصان پہنچا اور جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ میری ٹائم سکیورٹی فرم امبری اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس کارروائی نے خطے کی سمندری تجارت اور توانائی کی سپلائی لائنوں کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس حملے نے نہ صرف مصر بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ اس سے قبل مصر اس تنازع کی براہ راست زد سے نسبتاً محفوظ سمجھا جا رہا تھا۔ دوسری جانب عراق سے بھی فضائی حملوں اور دھماکوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جن نے سکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے حوالے سے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مصر کی بندرگاہ پر کیا جانے والا یہ مبینہ ڈرون حملہ مبینہ طور پر تہران کی صلاحیتوں کی نمائش اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے دائرے کو وسعت دینے کی ایک حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ان حملوں کے بعد علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، تاہم عسکری محاذ پر بڑھتی ہوئی یہ رسہ کشی اس بات کی غماز ہے کہ تنازع کا دائرہ اب مزید وسعت اختیار کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال کو فوری طور پر قابو میں نہ لایا گیا تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور بحری راستوں کی سلامتی پر انتہائی منفی مرتب ہو سکتے ہیں، جس سے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔