Politics
امریکی میڈیا میں مہنگائی کی رپورٹنگ اور سیاسی تعصب کا تجزیہ
امریکی میڈیا پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے بائیڈن اور ٹرمپ کے ادوار میں مہنگائی کی خبروں کو پیش کرنے کے لیے متضاد معیارات اپنائے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ میڈیا کے بیانیے سیاسی مفادات کے تابع نظر آتے ہیں۔
موجودہ دور میں خبروں کی دنیا میں سیاسی وابستگیوں اور صحافتی غیر جانبداری کے درمیان ایک بڑی خلیج پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے۔ خاص طور پر امریکی معیشت کے اہم اشاریوں جیسے کہ افراطِ زر (مہنگائی) کی رپورٹنگ میں میڈیا کا رویہ انتہائی متنازع رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں جب مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا تو اسے ایک عارضی رجحان کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ٹرمپ کے دور میں اسی طرح کی معاشی صورتحال کو ایک سنگین بحران کے طور پر اجاگر کیا گیا تھا۔ یہ تضاد نہ صرف عوامی اعتماد کو مجروح کر رہا ہے بلکہ میڈیا کی ساکھ پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر رہا ہے۔
ماہرینِ ابلاغیات کا ماننا ہے کہ میڈیا ہاؤسز کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان کا انتخاب کسی بھی خبر کی حساسیت کو تبدیل کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، بائیڈن انتظامیہ کے وسط مدتی انتخابات کے دوران مہنگائی کو ایک عالمی مسئلہ قرار دے کر اس کا ملبہ سپلائی چین کے مسائل پر ڈالا گیا، جبکہ میڈیا نے اسے بہت احتیاط کے ساتھ رپورٹ کیا۔ اس کے برعکس، ٹرمپ کے دور میں حکومتی پالیسیوں کی ناکامیوں کو مرکزی حیثیت دی جاتی تھی۔ یہ دوہرا معیار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح نیوز چینلز اور اخبارات اپنے ادارتی ایجنڈے کے تحت خبروں کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔
اس صورتحال نے عام شہریوں کے لیے سچائی تک رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔ جب میڈیا خود کسی سیاسی نظریے کا ترجمان بن جاتا ہے تو حقائق پیچھے رہ جاتے ہیں اور جذباتیت سامنے آ جاتی ہے۔ بائیڈن کے دور میں مہنگائی کے اعدادوشمار کو جس طرح سے 'عارضی' کہہ کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی، وہ درحقیقت ایک سیاسی حمایت کا مظہر تھا۔ دوسری جانب، ٹرمپ کے دور میں معیشت کی بہتری کے باوجود صرف منفی پہلوؤں کو نمایاں کرنا بھی صحافتی اصولوں کے منافی سمجھا جاتا ہے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں میڈیا کا کردار ایک آئینہ دار کی طرح ہونا چاہیے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت کے ترجمان کے طور پر۔ اگر میڈیا کی رپورٹنگ میں تعصب برقرار رہا تو عوام کا جمہوریت پر اعتماد مزید کمزور ہو جائے گا۔ مستقبل میں صحافت کو اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کے لیے ان تنقیدی جائزوں پر غور کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام کو حقائق پر مبنی معلومات فراہم کی جا سکیں، چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔