Politics
او یو اسٹیٹ اے ڈی سی بحران: گورنر شپ ٹکٹ کے لیے سیاسی رسہ کشی
افریقن ڈیموکریٹک کانگریس (اے ڈی سی) میں او یو اسٹیٹ کے گورنر شپ کے ٹکٹ کے حصول کے لیے اندرونی کشمکش اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ڈاکٹر گبیلیکے الاگبے نے خود کو پارٹی کا جائز امیدوار قرار دیتے ہوئے عدیگوکے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
او یو اسٹیٹ میں افریقن ڈیموکریٹک کانگریس (اے ڈی سی) کے اندر جاری قیادت اور گورنر شپ کی نامزدگی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ 2027 کے عام انتخابات کے پیش نظر پارٹی کے دو اہم رہنماؤں، ڈاکٹر گبیلیکے الاگبے اور عدیگوکے کے مابین ٹکٹ کے دعووں نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ڈاکٹر گبیلیکے الاگبے نے ایک بار پھر زور دے کر کہا ہے کہ وہ قانونی اور تنظیمی طور پر پارٹی کے جائز گورنر شپ امیدوار ہیں اور ان کی حیثیت کو چیلنج کرنے والے عناصر پارٹی کے نظم و ضبط کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
اس تنازعے کی بنیادی وجہ پارٹی کی اندرونی تقسیم اور اعلیٰ قیادت پر اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کھینچا تانی نہ صرف پارٹی کی انتخابی مہم کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ووٹرز کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچا رہی ہے۔ ڈاکٹر الاگبے کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ انہوں نے پارٹی کے لیے طویل عرصے تک خدمات انجام دی ہیں اور تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا ہے، جس کے بعد ان کی نامزدگی حتمی ہونی چاہیے۔ دوسری جانب، عدیگوکے گروپ کی جانب سے بھی اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جس سے پارٹی کے اندر دو الگ الگ دھڑے بن چکے ہیں۔
پارٹی کے مرکزی نظم و نسق کی جانب سے تاحال اس بحران کو حل کرنے کے لیے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے، جس کی وجہ سے کارکنوں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ اے ڈی سی کے سینئر عہدیداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اس مسئلے کو جلد حل نہ کیا گیا تو پارٹی 2027 کے انتخابات میں او یو اسٹیٹ میں اپنی سیٹیں برقرار رکھنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ پارٹی کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے لیے فوری طور پر مصالحتی کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ امیدواروں کے درمیان اس غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
آنے والے دنوں میں اس معاملے پر قانونی کارروائیوں کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں امیدوار اپنی اپنی حمایت میں ثبوت پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ او یو اسٹیٹ کی سیاست میں اے ڈی سی ایک اہم مقام رکھتی ہے اور یہ اندرونی بحران اپوزیشن جماعتوں کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتا ہے۔ عوام اور پارٹی ورکرز اب نظریں ٹکائے بیٹھے ہیں کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت اس بحران پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے اور کیا ڈاکٹر الاگبے اپنی پوزیشن برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔