LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی آئی پشاور جلسہ 5 اگست بے معنی قرار، سیاسی کشمکش جاری

News Image
خیبر پختونخوا کے گورنر کے مشیر اور دیگر رہنماؤں نے پاکستان تحریک انصاف کے 5 اگست کے جلسے کو بے معنی قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی رہنماؤں نے عوام سے پشاور میں ہونے والے اس عوامی اجتماع میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔
اسلام آباد اور پشاور کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر گرما گرمی دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے 5 اگست کو پشاور میں ایک بڑے عوامی اجتماع کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے سیاسی رہنماؤں کے بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں پیپلز پارٹی اور حکومتی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کیا گیا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا کے حوالے سے یا دیگر سرکاری شخصیات کی جانب سے اس جلسے پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم بیان میں پی ٹی آئی کے 5 اگست کے جلسے کو مکمل طور پر بے معنی قرار دیا گیا ہے۔ حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کو انتشار کی نہیں بلکہ معاشی استحکام اور سنجیدہ سیاست کی ضرورت ہے، اور اس طرح کے جلسے عوامی مسائل کے حل میں کوئی مددگار ثابت نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت کا موقف ہے کہ انہیں جمہوری اور آئینی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور پارٹی کے پاس اپنے حقوق کے حصول کے لیے تمام قانونی راستے اور کوششیں ختم ہو چکی ہیں، جس کے بعد عوامی رابطہ مہم ہی واحد راستہ بچی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود پشاور کا جلسہ تاریخ ساز ہوگا اور عوام بڑی تعداد میں اس میں شرکت کریں گے۔ صوبائی سطح پر بھی سیاسی ماحول کشیدہ ہے جہاں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی طرف سے وفاقی حکومت پر شدید تنقید کی گئی ہے اور صوبے کے تعلیمی اداروں اور طلباء کے لیے اہم ریلیف پیکج کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ رسہ کشی مزید تیز ہو سکتی ہے جس سے ملکی سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔