LIVE
Loading Breaking News...

یورپ میں امریکی فوجی ٹھکانے ایرانی خطرے کی زد میں

News Image
برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ تنازع بڑھتا ہے تو وہ یورپ میں موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد قبرص اور بلغاریہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں سکیورٹی انتظامات کو سخت کر دیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے مبینہ طور پر ایک حکمت عملی پر غور شروع کر دیا ہے جس کے تحت اگر امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کسی بڑی جنگ کی شکل اختیار کرتی ہے تو ایران یورپ میں قائم امریکی فوجی تنصیبات کو اپنے حملوں کا ہدف بنا سکتا ہے۔ یہ انکشاف برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی حکام اور قریبی ذرائع اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اگر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں یا کسی اور وجہ سے خطے میں تصادم کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے تو جوابی کارروائی کے طور پر کن مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس رپورٹ نے یورپ کے سکیورٹی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس دھمکی کے بعد یورپی ممالک میں ہلچل مچ گئی ہے۔ قبرص کی حکومت نے فوری طور پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کا ہدف نہیں ہے، جبکہ برطانیہ نے قبرص میں واقع اپنے آکروتیری ایئر بیس کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے۔ دوسری جانب بلغاریہ نے بھی ان اطلاعات کے بعد اپنے فوجی ایئر بیس پر سکیورٹی کے انتظامات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ یورپی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان رپورٹس کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اپنی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا پس منظر کافی پرانا ہے، لیکن حالیہ دنوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایران واقعی یورپ میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ تنازعہ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی پیمانے پر ایک سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سکیورٹی ایجنسیاں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔