LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں اسرائیلی حملے، پولیس پوسٹ اور خیموں پر بمباری سے متعدد فلسطینی شہید

News Image
غزہ میں اسرائیلی فوج کے تازہ ترین فضائی حملوں میں نو افراد شہید ہو گئے جن میں پولیس پوسٹ اور پناہ گزینوں کے خیمے نشانہ بنے۔ عالمی امدادی اداروں نے اس خونریز تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس کے نتیجے میں متعدد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ تازہ ترین حملوں میں ایک پولیس پوسٹ اور ساحلی پٹی پر قائم پناہ گزینوں کے خیموں کو نشانہ بنایا گیا، جسے حالیہ ہفتوں کے دوران ہونے والے بدترین حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ طبی ذرائع اور امدادی اداروں کے مطابق، ان حملوں میں کم از کم نو افراد جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائیاں مبینہ طور پر دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی تھیں، تاہم زمینی حقائق اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس اس کی تردید کرتی ہیں۔ اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے حماس نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتنیاہو پر سخت تنقید کی ہے۔ حماس کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے وحشیانہ حملے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ اسرائیلی قیادت غزہ میں جاری جنگ بندی کے مذاکرات کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنا چاہتی ہے۔ حماس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، اسرائیل کی جانب سے تشدد میں یہ اضافہ خطے میں امن کے قیام کی تمام امیدوں کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے ریلیف ویب نے بھی غزہ میں جاری اس خونریز تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 'قتل و غارت کا یہ سلسلہ کبھی نہیں رکتا' اور معصوم شہریوں کا اس طرح نشانہ بننا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ امدادی اداروں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرے اور غزہ میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب افراد کو کٹہرے میں لایا جائے۔ موجودہ بحران نے غزہ کے شہریوں کی زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے جہاں بنیادی طبی سہولیات، خوراک اور ادویات کی شدید قلت پہلے ہی موجود ہے۔ ساحلی علاقوں میں خیموں پر ہونے والے حملوں کے بعد سینکڑوں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر جنگ بندی نہ کی گئی تو یہ انسانی المیہ مزید سنگین شکل اختیار کر جائے گا، جس سے خطے کا امن ہمیشہ کے لیے داؤ پر لگ سکتا ہے۔