World
مغربی کنارے میں اسرائیلی تعمیراتی منصوبہ: E1 ایریا میں نئی بستیاں
اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے حساس ترین علاقے E1 میں نئی تعمیرات کے لیے ٹینڈرز جاری کر دیے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے اس منصوبے کو خطے کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔
اسرائیلی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اپنی توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے ایک انتہائی متنازعہ اقدام اٹھایا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق، اسرائیلی حکام نے یروشلم کے مشرق میں واقع E1 نامی علاقے میں نئی بستیاں بسانے اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے ٹینڈرز جاری کر دیے ہیں۔ یہ منصوبہ طویل عرصے سے عالمی سطح پر سخت تنقید کا مرکز رہا ہے کیونکہ اس کا نفاذ نہ صرف فلسطین کے مستقبل کے لیے خطرہ ہے بلکہ یہ خطے میں امن کی امیدوں پر بھی پانی پھیر سکتا ہے۔
ماہرین اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق E1 ایریا میں تعمیرات کا مطلب مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے سے فلسطینی علاقوں کا آپس میں زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو جائے گا، جس سے ایک خود مختار اور جڑواں فلسطینی ریاست کا قیام عملی طور پر ناممکن ہو جائے گا۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ سمیت عالمی طاقتیں اور اقوام متحدہ اس منصوبے کی مخالفت کرتے آئے ہیں، کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ تعمیرات ان کے سیکیورٹی اور تزویراتی مقاصد کے لیے ضروری ہیں، تاہم فلسطینی قیادت اسے 'زمین پر قبضہ کرنے' کی ایک منظم کوشش قرار دیتی ہے۔ اس اقدام سے مقبوضہ علاقوں میں پہلے سے موجود کشیدہ صورتحال میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مقامی فلسطینیوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں نے اس فیصلے کو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق پر ایک اور کاری ضرب قرار دیا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس غیر قانونی پیش رفت کو فوری طور پر رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
توقع ہے کہ اس معاملے پر آنے والے دنوں میں سفارتی سطح پر شدید ردعمل سامنے آئے گا۔ مغربی کنارے میں جاری یہ نئی پیش رفت نہ صرف مشرق وسطیٰ کی سیاست کو دوبارہ متحرک کر سکتی ہے بلکہ عالمی فورمز پر اسرائیل کی تنہائی میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ فی الحال یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عالمی دباؤ اس منصوبے کو رکوانے میں کامیاب ہوتا ہے یا اسرائیل اپنی توسیع پسندانہ حکمت عملی پر بدستور قائم رہتا ہے۔